سپر ٹیکس کن پر عائد ہو گا ؟ایف بی آر کی اہم وضاحت

سپر ٹیکس کن پر عائد ہو گا ؟ایف بی آر کی اہم وضاحت

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سپر ٹیکس پر وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد 237 ارب کی وصولی کی تیاری کرلی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سپر ٹیکس کی مد میں 327 ارب روپے وصول کرنے ہیں۔ ذرائع ایف بی آر کے مطابق صرف تیل و گیس دریافت کرنے والی کمپنیوں سے تقریباً 90 ارب روپے وصول ہونے ہیں کیونکہ تیل وگیس دریافت کرنے والی کمپنیاں پہلے ہی 44 سے 55 فیصد ٹیکس ادا کررہی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اایف بی آر نے بتایا کہ قانون کے مطابق ان کمپنیوں سے اس سے زیادہ ٹیکس وصول نہیں کیا جاسکتا لہٰذا ایف بی آر نے237 ارب روپے سپرٹیکس کی مد میں وصو ل کرنے کے لیے تیاری کرلی ہے۔

حکام ایف بی آر کا کہنا ہے کہ بڑی کمپنیوں سے اگلے 3 دن میں 100 ارب جمع کرنے کے لیے رابطے کرلیے گئے ہیں جب کہ سپرٹیکس وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس عائد کرنے کی توثیق کردی،سپر ٹیکس عائد کرنے سے 300 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔

ایف بی آرکی جانب سے کہا گیا ہے کہ ٹیکس کے معاملات کی وکیل عاصمہ حمید نے دلائل پیش کیے، عدالت نے ٹیکس دہندگان کی اپیلیں مسترد کر کے دفعہ 4بی کو آئینی طور پر جائز قرار دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ٹیکس 2022 کیلئے دفعہ 4سی کے تحت سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد ہوگی ،عدالت نے تیل اور گیس تلاش کرنے والی پیٹرولیم کمپنیوں کو نئے نوٹسز جاری کرنے کا حکم دیا۔

بینکنگ کمپنیوں پر سپر ٹیکس 2023 اور اس کے بعد کے سالوں کیلئے قابل اطلاق ہوگا۔

editor

Related Articles