اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب رضوان سعید نے کہا ہے کہ پاکستان نے جارحیت نہیں کی بلکہ یہ اقدام بھارت کی جانب سے کیا گیا ہے، یہ سوچ تک نہیں آنی چاہیئے کہ پاکستان پر حملہ ہوگا اور پاکستان کی جانب سے جوابی ردعمل نہیں آئے گا، اب تک پاکستان نے صرف حق دفاع استعمال کیا، جوابی کارروائی بھی کریں گے۔
امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے رضوان سعید شیخ نے کہا کہ بھارت کو ایسا سوچنا ہی نہیں چاہیے کہ پاکستان خاموش رہے گا، بھارت نے تیسری رات لگاتار حملہ کیا ہے، 30 سے زائد پاکستانی شہید اور 70 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، حالات کو معمول پر لانے کی ذمہ داری بھی بھارت ہی پر عائد ہوتی ہے۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ بھارت نے کرکٹ اسٹیڈیم پر حملہ کیا کرکٹ اسٹیڈیم میں کیا دہشتگرد ہوتے ہیں؟ پاکستان کبھی جنگ نہیں چاہتا لیکن جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔
رضوان سعید نے بھارتی موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بغیر کسی شواہد کے پاکستان کے خلاف کارروائی ناقابلِ قبول اور قابلِ مذمت ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے اور جارحیت کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے، عوام کا حکومتِ پاکستان پر بھارت کو جواب دینے کا دباؤ ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس نازک صورتحال میں بھارت کو تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر مجبور کرے۔
سفیر پاکستان کا کہنا تھا کہ ہندوتوا فلاسفی کے پیروکاروں اور اس پر عمل پیرا حکومت کی جانب سے لیکچر مضحکہ خیز اور ناقابلِ قبول ہیں، بھارت کی جانب سے خطے میں جو کچھ کیا جاتا رہا ہے اس سے تسلط پسندانہ رویے کی عکاسی ہوتی ہے۔