پاکستان نے دفاعی ٹیکنالوجی میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے پہلی بار ملکی سطح پر تیار کردہ بغیر پائلٹ طیاروں کے انجن متعارف کرا دیے ہیں، جو مقامی طور پر کم لاگت والے ڈرونز اور لوئٹرنگ میونیشنزکی تیاری میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
کراچی کی معروف صنعتی کمپنی السنز گروپ نے یہ انجن فرانس کے دارالحکومت پیرس میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش یوروسیٹری 2026 میں پیش کیے۔ کمپنی نے اپنی نئی ایرو اسپیس ڈویژن ایڈوانسڈ کائنیٹک ایرو اسپیس لیبزکے ذریعے انجنوں کی رونمائی کی۔
السنز گروپ اب تک آٹوموٹو پرزہ جات اور الیکٹرانکس کی تیاری کے لیے جانا جاتا تھا، تاہم اب کمپنی نے دفاعی اور ایرو اسپیس شعبے میں بھی قدم رکھ دیا ہے، جسے پاکستان کی نجی دفاعی صنعت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ یو اے وی انجن مکمل طور پر پاکستان میں ڈیزائن، انجینئر اور تیار کیے گئے ہیں۔
کم لاگت والے ڈرونز کے لیے چار نئے انجن
نمائش کے دوران کمپنی نے چھوٹے پسٹن انجنوں پر مشتمل چار مختلف ماڈلز پیش کیے، جنہیں نسبتاً کم لاگت والے ڈرونز کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ انجن نگرانی کرنے والے ڈرونز، ہدفی ڈرونز، ایک طرفہ حملہ آور ڈرونز اور لوئٹرنگ میونیشنز میں استعمال کیے جا سکتے ہیں، جو ہدف پر حملے سے قبل طویل وقت تک فضا میں رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اگرچہ پاکستان گزشتہ چند برسوں میں مختلف اقسام کے ڈرونز تیار کر چکا ہے، تاہم ان میں استعمال ہونے والے انجن اور کئی اہم پرزے بیرون ملک سے درآمد کیے جاتے رہے ہیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق مقامی سطح پر انجنوں کی تیاری سے نہ صرف درآمدی انحصار کم ہوگا بلکہ کم لاگت میں زیادہ تعداد میں ڈرونز تیار کرنا بھی ممکن ہو سکے گا۔
نجی شعبے کا بڑھتا کردار
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارت دفاعی پیداوار نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر ڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی پر کام کر رہی ہے۔ حکومت نے مقامی ڈرون صلاحیت کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے تحقیق، آزمائش، قواعد و ضوابط اور خریداری کے نظام پر بھی نجی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھایا ہے۔
پاکستان کی متعدد کمپنیاں اس وقت ہدفی ڈرونز، مسلح ملٹی روٹر ڈرونز، کروز میزائل طرز کے نظام اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے لوئٹرنگ میونیشنز پر کام کر رہی ہیں۔
رواں مالی سال 2026 تا 2027 کے لیے پاکستان نے دفاعی بجٹ میں 17.65 فیصد اضافہ کیا ہے، تاہم روپے کی قدر میں کمی کے باعث بیرون ملک سے خریدے جانے والے دفاعی سازوسامان کی لاگت بھی بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انجن، سینسرز، الیکٹرانکس اور دیگر اہم پرزے مقامی سطح پر تیار کیے جائیں تو دفاعی بجٹ کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
السنز گروپ نے یوروسیٹری 2026 میں اپنے انجن عالمی خریداروں کے سامنے بھی پیش کیے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کمپنی کو بیرون ملک سے آرڈرز یا شراکت دار مل جاتے ہیں تو پاکستان میں بڑے پیمانے پر دفاعی انجنوں کی تیاری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
تاہم کمپنی نے فی الحال ان انجنوں کی مکمل تکنیکی خصوصیات، طاقت، کارکردگی یا ان ڈرون پلیٹ فارمز کی تفصیلات جاری نہیں کیں جن میں انہیں استعمال کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں مقامی دفاعی صنعت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو مستقبل میں ملک کو دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں مزید خود کفیل بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔