پانی قومی سلامتی کا بنیادی ستون قرار، پاکستان کا سندھ طاس معاہدے کے بھرپور تحفظ کے عزم کا اعادہ

پانی قومی سلامتی کا بنیادی ستون قرار، پاکستان کا سندھ طاس معاہدے کے بھرپور تحفظ کے عزم کا اعادہ

پاکستان نے سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹرز ٹریٹی) کے تحفظ کے اپنے عزم کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک کے آبی حقوق پر کسی بھی قسم کی یکطرفہ قدغن یا معاہدے میں مداخلت نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ پاکستان کے قومی مفادات، معیشت اور کروڑوں شہریوں کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہوگی۔

اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے قانونی اور آئینی پہلوؤں پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کمشنر برائے سندھ طاس سید محمد مہر علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کے لیے سندھ طاس معاہدہ صرف پانی کی تقسیم کا معاہدہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا ایک بنیادی جزو ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ : پاکستان کو بھارت کے خلاف بڑی قانونی کامیابی حاصل

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 24 کروڑ سے زیادہ آبادی کا انحصار دریائے سندھ کے آبی نظام پر ہے جبکہ ملک کی 80 فیصد سے زیادہ قابلِ کاشت زمین انہی دریاؤں کے پانی سے سیراب ہوتی ہے۔

ان کے مطابق زراعت ملکی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً ایک چوتھائی حصہ ڈالتی ہے اور تقریباً ایک تہائی افرادی قوت کا روزگار اسی شعبے سے وابستہ ہے، اس لیے پانی کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال قومی استحکام کو متاثر کر سکتی ہے۔

سید محمد مہر علی شاہ نے کہا کہ دریاؤں کے بہاؤ کی درست پیش گوئی اب صرف منصوبہ بندی کا معاملہ نہیں بلکہ ریاست کی بقا سے جڑا ایک اہم تقاضا بن چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب پانی، خوراک، روزگار اور معاشرتی استحکام ایک دوسرے سے منسلک ہوں تو پانی کے بارے میں غیر یقینی صورتحال درحقیقت قومی غیر یقینی صورتحال میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو خطے میں تنازعات کی روک تھام کا ایک مؤثر نظام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے نے مشترکہ دریائی نظام کو ایک مضبوط قانونی ڈھانچے میں تبدیل کیا، جس میں دونوں ممالک کے حقوق اور ذمہ داریوں کا واضح تعین کیا گیا۔

مزید پڑھیں:وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی اہم ملاقاتیں، سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی سمیت بھارتی عزائم سے متعلق دُنیا کو آگاہ کردیا

انہوں نے یاد دلایا کہ معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں کا اختیار بھارت کو دیا گیا جبکہ مغربی دریاؤں پر پاکستان کے حقوق تسلیم کیے گئے اور بھارت کو ان دریاؤں پر محدود اور معاہدے میں درج مخصوص استعمال کی اجازت دی گئی۔ پاکستان نے اسی یقین دہانی کی بنیاد پر اپنے آبپاشی کے نظام اور آبی معیشت کی منصوبہ بندی کی۔

کمشنر سندھ طاس نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ذمہ داری اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم پانی، خوراک، روزگار اور سماجی استحکام ایسے بنیادی قومی مفادات ہیں جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ معاہدے کے تحت ملنے والے پانی کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے گا۔

سیمینار ایسے وقت میں منعقد ہوا جب گزشتہ برس مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو معطل رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:چین سمیت دنیا کی گہری نظر، سندھ طاس معاہدہ تنازعہ بالائی ممالک کیلئے انتباہ بن گیا

نئی دہلی نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا، تاہم اسلام آباد نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے۔ بھارتی حکام کی جانب سے پاکستان کی جانب پانی کے بہاؤ کو روکنے سے متعلق بیانات سامنے آئے، جبکہ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دریائے سندھ کے نظام پر بھارت کے متعدد منصوبوں کو “ہائیڈرو ہیجمنی” کا مظہر قرار دیا۔

Related Articles