اوپیک کی تیل پیداوار 2 دہائیوں کی کم ترین سطح پرآ گئی، عالمی بحران کا خدشہ

اوپیک کی تیل پیداوار 2 دہائیوں کی کم ترین سطح پرآ گئی، عالمی بحران کا خدشہ

تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم ’اوپیک‘ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد وشمار نے عالمی منڈی میں تہلکہ مچا دیا ہے۔

خبر ایجنسی کے ایک جامع سروے کے مطابق اپریل کے مہینے میں اوپیک کی مجموعی پیداوار 2 کروڑ بیرل یومیہ سے گر کر محض 830000 بیرل رہ گئی ہے، جو کہ گزشتہ 20 سالوں کی کم ترین سطح ہے۔

اس تاریخی کمی کی سب سے بڑی وجہ ’آبنائے ہرمز‘ کی بندش بتائی جا رہی ہے، جس نے خلیجی ممالک کی برآمدات کو مفلوج کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے علیحدگی کے بعد ایک اور بڑا اعلان

رپورٹ کے مطابق کویت اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جس نے اپریل کے مہینے میں ’صفر‘ خام تیل برآمد کیا، جو کہ کویت کی معاشی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔

دوسری جانب، سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملوں کے باعث اس کی پیداوار بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور 7000000 بیرل یومیہ تک گر گئی ہے۔

عراق کی پیداوار میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم متحدہ عرب امارات وہ واحد خلیجی ملک رہا جس کی پیداوار میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ خلیج سے باہر وینزویلا اور لیبیا نے بھی اپنی پیداوار میں بہتری دکھائی ہے۔

آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی کا راستہ

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ ہے جو خلیج فارس کو بحیرہ عمان سے ملاتی ہے۔ دنیا بھر میں سمندر کے راستے تجارت ہونے والے کل تیل کا تقریباً 20 فیصد سے زائد حصہ اسی تنگ گزرگاہ سے گزرتا ہے۔

علاقائی کشیدگی اور بحری ناکہ بندی کے باعث جب بھی یہ راستہ متاثر ہوتا ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملوں نے ثابت کیا ہے کہ توانائی کا عالمی نظام کتنا حساس ہے اور ایک چھوٹے سے خلل سے کروڑوں بیرل کی پیداوار رک سکتی ہے۔

عالمی معیشت پر اثرات اور مستقبل کا منظرنامہ

اوپیک کی پیداوار میں یہ ہوشربا کمی محض ایک تجارتی اعداد وشمار نہیں بلکہ ایک عالمی معاشی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جب رسد 2 کروڑ بیرل سے کم ہو کر لاکھوں میں آ جائے، تو طلب اور رسد کا توازن مکمل بگڑ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 150 سے 200 ڈالرز فی بیرل تک جا سکتی ہے، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔

کویت جیسے ملک کی جانب سے صفر برآمدات کا مطلب اس کی قومی معیشت کا جمود کا شکار ہونا ہے، کیونکہ اس کی آمدن کا کل دارومدار تیل پر ہے۔ یہ صورتحال دیگر خلیجی ممالک کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ وہ اپنی معیشت کو متنوع بنائیں۔

امارات کی پیداوار میں اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ اس نے متبادل راستوں یا محفوظ اسٹوریج کے ذریعے اپنی سپلائی لائن کو برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

وینزویلا اور لیبیا کی پیداوار میں اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ جب خلیجی ریاستیں بحران کا شکار ہوتی ہیں تو مارکیٹ کا رخ غیر خلیجی ممالک کی طرف مڑ جاتا ہے، جو عالمی توانائی کی سیاست میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتا ہے۔

Related Articles