سلامتی کونسل میں سپر پاورز آمنے سامنے: امریکہ نے روس کی جنگ بندی قرارداد ویٹو کر دی

سلامتی کونسل میں سپر پاورز آمنے سامنے: امریکہ نے روس کی جنگ بندی قرارداد ویٹو کر دی

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے درمیان شدید سفارتی ٹکراؤ کا میدان بن گئی ہے، جہاں امریکہ نے روس کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کر کے مسترد کر دیا۔ اس اقدام کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی فوری امیدیں دم توڑ گئی ہیں اور سفارتی حلقوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

روس کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ خطے میں جاری فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں اور انسانی امداد کے لیے راہداری کھولی جائے.

، تاہم امریکہ نے اس موقف پر قرارداد کی مخالفت کی کہ اس میں اسرائیل کے دفاعی حق اور ایران کی حالیہ اشتعال انگیزیوں کو مناسب طریقے سے تسلیم نہیں کیا گیا۔ امریکی مندوب کا کہنا تھا کہ ایسی قراردادیں جو زمینی حقائق کو نظر انداز کریں، پائیدار امن کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔

دوسری جانب روس اور چین نے امریکی ویٹو پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے انسانی جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ روسی نمائندے نے موقف اختیار کیا کہ امریکہ امن کے بجائے جنگ کو طول دینا چاہتا ہے تاکہ اپنے تزویراتی اہداف حاصل کر سکے۔

عالمی برادری نے سلامتی کونسل کی اس ناکامی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سپر پاورز کے درمیان یہ کھینچا تانی ایک بڑے انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کے دورہ چین کا باضابطہ اعلان: وائٹ ہاؤس نے تاریخوں کی تصدیق کر دی

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *