کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں گرنے والی عمارت کے ملبے سے مزید 4 نعشیں نکال لی گئیں، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی۔
کراچی میں لیاری بغدادی میں جمعہ کی صبح 5 منزلہ عمارت گرنے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے عمارت مکمل طور پر زمین بوس ہوگئی، سانحے سے متاثرہ خاندانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی جبکہ تباہ شدہ عمارت کے ساتھ والی بلڈنگ کی سیڑھیاں بھی گر گئیں۔
امدادی ٹیموں نے عمارت کے ملبے سے مزید 4 نعشیں نکال لی ہیں جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 26 تک جا پہنچی ہے، جاں بحق افراد میں 15 مرد، 9 خواتین، ایک بچہ اور بچی شامل ہیں، مزید 4 سے 5 افراد ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق ہیومن باڈی ڈیٹیکٹر کی مدد سے تلاش جاری ہے، امدادی ٹیمیں ہیوی مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو آپریشن میں مزید چند گھنٹے لگ سکتے ہیں۔
حکام نے گرنے والی عمارت سے متصل دو دیگر عمارتوں (ایک دو منزلہ اور ایک سات منزلہ) کو بھی خالی کرا لیا ہے۔ ریسکیو ٹیموں نے عمارت کی بجلی اور گیس کی لائنوں کو بھی کاٹ دیا ہے تاکہ مزید حادثے سے بچا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کراچی نے بتایا کہ متاثرہ عمارت کے مکینوں کو 2022، 2023 اور 2024 میں نوٹس دیے گئے تھے، ان کے مطابق ضلع میں 107 مخدوش عمارتوں میں سے 21 کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا تھا جن میں سے 14 کو خالی کرا لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’لیاری کے واقعے پر فوری طور پر کسی کو ذمے دار ٹھہرانا قبل از وقت ہوگا۔‘‘
یہ واقعہ شہر میں عمارتوں کی ناقص تعمیر اور انتظامیہ کی لاپرواہی کے سنگین نتائج کی ایک اور المناک مثال ہے، اب تک کی اطلاعات کے مطابق ریسکیو آپریشن رات گئے تک جاری رہے گا۔