امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان یوکرین جنگ کے حل کے لیے الاسکا میں ہونے والی تاریخی اور اہم ملاقات تین گھنٹے جاری رہی، تاہم کسی جنگ بندی معاہدے کا اعلان نہ ہو سکا۔ دونوں رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ بات چیت میں ’اہم پیش رفت‘ ہوئی ہے۔
یہ ملاقات الاسکا کے ایلمنڈورف، رچرڈسن ملٹری بیس پر ہوئی، جو روسی سلطنت کا کبھی حصہ رہا تھا اور بعد ازاں 1867 میں امریکا نے اسے خریدا۔
امریکی ٹیلی ویژن سی این این کے ذرائع کے مطابق ملاقات کا مقام روس کی خواہش پر طے پایا، کیونکہ پیوٹن کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کا وارنٹ گرفتاری موجود ہے، جس کی وجہ سے کسی دوسرے مقام کا انتخاب مشکل تھا۔
معاہدہ نہیں ہوا، مگر پیش رفت ہوئی ہے، ٹرمپ
مشترکہ پریس کانفرنس میں، جو صرف 12 منٹ جاری رہی اور جس میں صحافیوں سے سوالات نہیں لیے گئے، صدر ٹرمپ نے گفتگو کو ’بہت مثبت‘ قرار دیا، لیکن واضح کیا کہ کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔
’جب تک معاہدہ نہ ہو، تب تک کوئی معاہدہ نہیں ہوتا،’ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ نیٹو اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بات کریں گے تاکہ انہیں ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کیا جا سکے۔
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایک ’بڑا مسئلہ‘ معاہدہ ہونے میں رکاوٹ بن رہا ہے، تاہم انہوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی، انہوں نے اس امکان کا ذکر کیا کہ معاہدے میں قیدیوں کا تبادلہ اور ممکنہ علاقائی تبدیلیاں شامل ہو سکتی ہیں۔
ٹرمپ نے ملاقات کو ’10 میں سے 10‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہماری آپس میں بہت اچھی بن گئی‘ ۔’انہوں نے عندیہ دیا کہ ممکنہ طور پر پیوٹن اور زیلنسکی مستقبل میں براہ راست مذاکرات کریں گے‘۔
جنگ روس کی سیکیورٹی خطرات کی بنیاد پر ہوئی، پیوٹن
صدر پیوٹن نے ایک بار پھر اس مؤقف کو دہرایا کہ یوکرین جنگ کی بنیادی وجہ روس کی قومی سلامتی کو لاحق ’بنیادی خطرات‘ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ایک دیرپا اور پائیدار حل کے لیے ضروری ہے کہ اس تنازع کے بنیادی اسباب کا خاتمہ کیا جائے‘۔
اگرچہ پیوٹن نے جنگ بندی کی تصدیق نہیں کی، لیکن انہوں نے اشارہ دیا کہ ٹرمپ کے ساتھ ایک ایسی مفاہمت ہوئی ہے جو امن کی جانب بڑھنے کا راستہ کھول سکتی ہے۔ ’پیوٹن نے کہا کہ ’میں امید کرتا ہوں کہ جو معاہدہ ہم نے آج کیا ہے وہ ہمیں امن کے قریب لائے گا‘۔
انہوں نے یورپی ممالک کو خبردار کیا کہ وہ اس پیش رفت کو ’رکاوٹوں، سازشوں اور اشتعال انگیزیوں‘ سے نہ روکے۔
ریڈ کارپٹ استقبال اور تاریخی پس منظر
ملاقات سے قبل، صدر ٹرمپ نے الاسکا ایئرپورٹ پر صدر پیوٹن کا ریڈ کارپٹ پر استقبال کیا۔ دونوں رہنما ایک ساتھ ٹرمپ کی لیموزین میں بیس پر پہنچے۔ یہی بیس 1971 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن اور جاپانی شہنشاہ ہیروہیٹو کی ملاقات کی میزبانی کر چکا ہے۔
اگلی ملاقات ماسکو میں؟
پریس کانفرنس کے اختتام پر پیوٹن نے ٹرمپ کو آئندہ ملاقات ماسکو میں کرنے کی دعوت دی۔ ٹرمپ نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’یہ دلچسپ تجویز ہے، مجھے اس پر تھوڑی تنقید کا سامنا ہو سکتا ہے۔ لیکن ایسا ممکن ہے‘۔
زیلنسکی اور نیٹو تاحال خاموش
ملاقات کے ختم ہونے کے 3 گھنٹے بعد تک یوکرین یا صدر ولادیمیر زیلنسکی کی طرف سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ زیلنسکی کو ملاقات میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کی پہلی کال زیلنسکی کو ہو گی تاکہ انہیں تفصیلات سے آگاہ کیا جا سکے۔ ’اب یہ زیلنسکی پر منحصر ہے،‘ انہوں نے زیلنسکی پر زور دیا کہ وہ ’ایک معاہدہ کریں‘۔
بات چیت بہت اچھی رہی
کریملن نے فوری طور پر اس ملاقات کو ’بہت مثبت‘ اور ’بہت اچھی‘ قرار دیا۔ روسی ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ’جامع بیانات‘ دیے، اس لیے صحافیوں کے سوالات نہیں لیے گئے۔ ان کے مطابق، یہ گفتگو امن معاہدے کے امکانات کو آگے بڑھانے میں مدد دے گی۔
اب کیا ہوگا؟
اگرچہ الاسکا سمٹ کسی جنگ بندی معاہدے پر منتج نہیں ہوا، لیکن اس ملاقات کو یوکرین جنگ کے سفارتی حل کی جانب ایک ممکنہ موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ اب دنیا کی نظریں یوکرین، نیٹو اور یورپی رہنماؤں پر مرکوز ہیں، کہ وہ اس ’پیش رفت‘ پر کیا ردعمل دیتے ہیں جس کا دعویٰ بند دروازوں کے پیچھے کیا گیا ہے۔