امریکی ریاست مینسوٹاکے شہر نارتھ فیلڈ کی ایک چھوٹی سی کافی شاپ’’لٹل جوائے کافی‘‘ نامی کیفے نے اپنی خاص ڈرنک ’رسبیری ڈینش لاٹے‘ متعارف کروائی جو چند ہی دنوں میں بے حد مقبول ہو گئی۔ کیفے نے اس کی ترکیب چھپانے کے بجائے دنیا بھر کے لوگوں کو کھلےعام دعوت دی کہ وہ اس ریسپی کو چوری کر کے اپنے مینو میں شامل کریں۔
یہ ایک ایسا منفرد قدم تھا جو کہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں مشہور ہو گئیاس غیر معمولی اعلان کے بعد پیرس، پوزنن، ملائیشیا اور مراکش سمیت دنیا کے مختلف شہروں کے کیفے مالکان اور کافی کے شوقین افراد نے اس پیشکش کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور اپنے اپنے انداز میں اس ڈرنک کو تیار کرنا شروع کر دیا۔
کیفے کے مالک کوڈی لارسن نے بین الاقوامی نیوز ادارہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں اس ردعمل کی بالکل توقع نہیں تھی۔ ان کے بقول’’میں نے سوچا تھا شاید 5 یا زیادہ سے زیادہ 10، 12 لوگ اس ریسپی کو آزمائیں گےمگر یہ تو عالمی ٹرینڈ بن گیا۔‘‘
کوڈی لارسن اس سے پہلے بھی منفرد کافی فلیورز متعارف کروا چکے ہیں جن میں ’کیرٹ کیک لاٹے‘ اور ’کارڈیمم بن لاٹے‘ خاصے مقبول رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ آم کے ذائقے والی کافی بنانے کا سوچ رہے تھے لیکن بعد میں یورپی پیسٹری سے متاثر ہو کر ’رسبیری ڈینش لاٹے‘ تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
ماہرین کے مطابق یہ قدم نہ صرف ایک دلچسپ مارکیٹنگ حکمت عملی ہے بلکہ اس نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ بعض اوقات مقابلے کے بجائے شیئرنگ سے برانڈ کو زیادہ شہرت مل سکتی ہے۔