تقریباً 160 سال پہلے آئرلینڈ ایک بدترین قحط اور بیماریوں کی لپیٹ میں تھا جسے تاریخ میں عظیم قحطِ آئرلینڈ کہا جاتا ہے۔ 1845 سے 1849 کے درمیان اس سانحے میں کم از کم 10 لاکھ افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ مزید 10 لاکھ سے زائد لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
اس مشکل وقت میں اس وقت کی عثمانی سلطنت نے غیر معمولی انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق سلطنت نے آئرلینڈ کے متاثرہ علاقوں کے لیے مالی امداد اور خوراک بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
اس وقت عثمانی حکمران عبدالمجید اول نے امداد بھیجنے کا اعلان کیا اور ابتدائی طور پر بڑی رقم دینے کی خواہش ظاہر کی، تاہم بین الاقوامی سیاسی حالات کے باعث محدود رقم بھیجی گئی۔
مزید یہ کہ عثمانی سلطنت نے تین جہازوں کے ذریعے خوراک بھی آئرلینڈ کے شہر ڈروگھیڈا بھیجنے کا انتظام کیا۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق برطانوی انتظامیہ نے اس امداد کو روکنے کی کوشش کی، مگر خوراک خفیہ طور پر اپنی منزل تک پہنچ گئی۔
یہ انسانی ہمدردی کا واقعہ آج بھی آئرلینڈ اور ترکی کے درمیان دوستانہ تعلقات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ڈروگھیڈا شہر نے اس امداد کی یاد میں اپنے قومی نشان میں ہلال اور ستارہ بھی شامل کیا جو آج بھی موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ مختلف مذاہب اور اقوام کے درمیان انسان دوستی اور تعاون کی ایک روشن مثال ہے، جو آج کے دور میں بھی اہم پیغام دیتا ہے۔