تحقیق کے مطابق سیاحوں کی جانب سے دیے جانے والے یا چوری کیے گئے چاکلیٹ، چپس، آئس کریم اور دیگر غیر صحت مند کھانے بندروں کی قدرتی خوراک سے بالکل مختلف ہیں۔ یہ خوراک ان کے نظامِ ہاضمہ پر منفی اثر ڈال رہی ہے جس سے متلی اور اسہال جیسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بندر مٹی کھا کر اپنے معدے کی جلن کم کرتے ہیں۔ مٹی نہ صرف معدے میں ایک حفاظتی تہہ بناتی ہے بلکہ نقصان دہ اجزاء کے اثر کو بھی کم کرتی ہے۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مٹی میں موجود فائدہ مند بیکٹیریا بندروں کے آنتوں کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ رویہ بندروں میں سماجی طور پر سیکھا گیا ہے۔ مختلف گروہوں میں مٹی کی پسند بھی مختلف دیکھی گئی ہے۔ بندروں کی یہ عادت براہ راست انسانوں کے قریب رہنے اور سیاحتی علاقوں میں جنک فوڈ کی دستیابی کا نتیجہ ہے۔ بندر وہی چیزیں کھا رہے ہیں جو انسانوں کے لیے بھی غیر صحت مند سمجھی جاتی ہیں۔
کیمبرج یونیورسٹی کے محقق ڈاکٹر سلویئن لیموئن کے مطابق یہ رویہ انسانوں اور بندروں دونوں میں ایک جیسا ہو سکتا ہے کیونکہ دونوں زیادہ کیلوریز اور میٹھے کھانے کی طرف فطری طور پر متوجہ ہوتے ہیں۔یہ تحقیق سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے اور اس نے جنگلی حیات اور انسانی اثرات کے تعلق پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔