عالمی منڈی ایک بار پھر شدید دباؤ میں ہے جہاں ایک طرف مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال ہے اور دوسری طرف تیل کے ذخائر میں مسلسل کمی ، ان دونوں عوامل نے مل کر عالمی تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔
آج بدھ کے روز خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ، ماہرین کے مطابق یہ صرف آغاز ہو سکتا ہے۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک سطح کے قریب پہنچ رہی ہے ، صورتحال نے عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی ہے، اور تاجر مستقبل کی قیمتوں کے بارے میں زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔
ایران-امریکا کشیدگی، عالمی مارکیٹ پر براہِ راست اثر
رپورٹس کے مطابق امریکی فوج کی جانب سے ایران میں بعض اہداف پر کارروائی کے بعد خطے میں تناؤ مزید بڑھ گیا ہے، یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوئی جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی ہیلی کاپٹر کے مبینہ طور پر گرائے جانے کے واقعے پر ردعمل دینے کا اعلان کیا۔
اسی کشیدگی کے باعث عالمی سرمایہ کاروں نے خطرہ مول لینے سے گریز شروع کر دیا ہے، جس کا براہِ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑا ہے، مارکیٹ میں خوف اور غیر یقینی کیفیت نے خریداری کے رجحان کو بڑھا دیا ہے، جس سے قیمتیں اوپر چلی گئی ہیں۔
برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی نئی قیمتیں
عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت 83 سینٹ یا 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 92.29 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 68 سینٹ یا 0.8 فیصد بڑھ کر 88.97 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔
منگل کے روز برینٹ کی قیمت سات ہفتوں کی کم ترین سطح پر بند ہوئی تھی، جبکہ WTI بھی مئی کے آخر کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ گیا تھا
آبنائے ہرمز کا خطرہ: عالمی سپلائی پر بڑا دباؤ
توانائی کی عالمی سپلائی کا سب سے حساس راستہ، آبنائے ہرمزایک بار پھر توجہ کا مرکز ہے ، ایران کی جانب سے اس اہم سمندری راستے پر پابندیوں اور محدود نقل و حرکت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
یہی وہ راستہ ہے جہاں سے دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اور LNG گزرتا ہے۔ کسی بھی رکاوٹ کی صورت میں عالمی معیشت پر فوری اثر پڑتا ہے، اور یہی خدشہ اس وقت مارکیٹ میں قیمتوں کو اوپر لے جا رہا ہے۔
امریکی تیل کے ذخائر میں مسلسل کمی
سپلائی کے حوالے سے امریکی خام تیل کے ذخائر میں مسلسل آٹھویں ہفتے کمی ریکارڈ کی گئی ہے، امریکن پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ (API) کے اعداد و شمار کے مطابق 5 جون کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران خام تیل کے ذخائر 9.12 ملین بیرل کم ہوئےجبکہ پٹرول کے ذخائر میں بھی 1.19 ملین بیرل کی کمی دیکھی گئی۔
توانائی کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ایران-امریکا کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا آبنائے ہرمز میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو تیل کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں، اس کا براہِ راست اثر عالمی مہنگائی، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں پر پڑے گا۔