پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی تازہ رپورٹ جاری، 20 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر، 7 لاکھ 60 ہزار بے گھر، متاثرین کے لیے امداد کا اعلان

پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی تازہ رپورٹ جاری، 20 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر، 7 لاکھ 60 ہزار بے گھر، متاثرین کے لیے امداد کا اعلان

پنجاب میں مون سون بارشوں اور بھارت کی جانب سے پاکستانی دریاؤں، دریائے راوی، ستلج اور چناب میں چھوڑے گئے پانی باعث شدید سیلابی صورتحال سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ اب تک صوبے بھر میں 20 لاکھ 66 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 7 لاکھ 60 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسسٹنٹ کمشنر پتوکی فرقان احمد سیلاب زدہ علاقے کے دورے کے دوران دماغی شریان پھٹنے سے انتقال کر گئے

اتوار کو ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کی جانب سے ترین فلڈ رپورٹ میں جاری کردہ اعداد وشمار میں بتایا گیا ہے کہ سیلاب کے باعث 2 ہزار سے زیادہ موضع جات شدید متاثر ہوئے ہیں۔

7 لاکھ 60 ہزار افراد اور 5 لاکھ سے زیادہ مویشی محفوظ مقامات پر منتقل

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ اضلاع میں 511 ریلیف کیمپس، 354 میڈیکل کیمپس اور 333 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ اب تک 5 لاکھ 16 ہزار مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

دریاؤں میں پانی کی صورتحال

دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 53 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا، جبکہ ایک موقع پر یہ بہاؤ 3 لاکھ 85 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر بہاؤ 1 لاکھ 54 ہزار کیوسک ہے۔

ادھر دریائے چناب میں جھنگ اور ہیڈ تریموں کے مقامات پر بڑا سیلابی ریلا گزر رہا ہے۔ چناب میں خانکی پر 1 لاکھ 66 ہزار، قادرآباد پر 1 لاکھ 85 ہزار، اور ہیڈ تریموں پر 3 لاکھ 61 ہزار کیوسک بہاؤ ریکارڈ کیا گیا، جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں:لاہور میں کل سے تعلیمی سرگرمیاں بحال، سیلاب متاثرہ علاقوں میں سکول بند رہینگے

رپورٹ کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں ہیڈ تریموں پر 7 لاکھ کیوسک تک سیلابی ریلا پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔دریائے راوی میں جسڑ پر 84 ہزار، شادرہ پر 76 ہزار، اور ہیڈ سدھنائی پر 46 ہزار کیوسک پانی کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا جبکہ بلوکی ہیڈ ورکس پر 2 لاکھ 4 ہزار کیوسک پانی کا بہاؤ جاری ہے۔

ڈیموں میں پانی کی صورت حال

رپورٹ کے مطابق تربیلا ڈیم اپنی مکمل گنجائش یعنی 100 فیصد تک بھر چکا ہے جبکہ منگلا ڈیم 82 فیصد تک بھر چکا ہے جبکہ بھارت میں ستلج پر واقع بھاکڑا ڈیم 84 فیصد، پونگ ڈیم 98 فیصد  اور تھین ڈیم 92 فیصد تک بھر چکے ہیں، جس سے سیلابی خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

جانی و مالی نقصان

ریلیف کمشنر نبیل جاوید کے مطابق حالیہ سیلابی صورتحال میں اب تک 33 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر متاثرہ شہریوں اور کسانوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر ان کا ازالہ کیا جائے گا۔

موسمی صورتحال

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب کے مختلف اضلاع میں شدید مون سون بارشیں ہوئیں۔ لاہور میں 158 ملی میٹر، حافظ آباد 121، ملتان 112، اور اوکاڑہ میں 79 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:سیلاب زدہ پنجاب میں شدید بارش،پانی کی سطح میں اضافہ، متاثرہ علاقوں میں زندگی متاثر

دیگر اضلاع جیسے فیصل آباد، بہاولپور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، منڈی بہاؤالدین، اور میانوالی میں بھی بارشیں ہوئیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون کا نواں اسپیل 2 ستمبر تک جاری رہے گا، جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید بارشوں کا امکان ہے۔

وارننگ جاری

ریلیف کمشنر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ محتاط رہیں، ضلعی انتظامیہ سے رابطے میں رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ حکومت اور ریسکیو ادارے ہمہ وقت صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *