پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدید مون سون بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی ہے، پنجاب میں اب تک 41افراد جاں بحق اور8 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے جو کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، ایمرجنسی کے نفاذ کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پنجاب پرووِنشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے منگل کو میڈیا کو بتایا کہ صوبہ اپنی تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مون سون کا نواں اسپیل آئندہ 2 روز میں مزید بارشیں لائے گا، جس سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نالہ لئی، کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 19 فٹ تک پہنچ چکی ہے، تاہم ہیڈ مرالہ میں فی الحال کوئی نیا ریلا داخل نہیں ہوا۔
عرفان علی کاٹھیا نے مزید کہا کہ ہیڈ تریموں کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں، لیکن دریائے چناب کا پانی اگلے 12 گھنٹوں میں ملتان پہنچ کر دریائے راوی کے سیلابی پانی سے مل جائے گا۔
ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کی آمد 117,000 کیوسک تک پہنچ چکی ہے اور ہیڈ بلوکی پر گزشتہ24 گھنٹوں سے 150,000 کیوسک کا مستقل بہاؤ خطرے کی گھنٹی ہے، جو جلد ہی سدھنائی پہنچ جائے گا۔
کمالیہ میں دریائے راوی کا قہر، 80 دیہات زیرِآب
کمالیہ میں دریائے راوی میں 200,000 کیوسک پانی کی آمد سے80 سے زیادہ دیہات زیرِ آب آ گئے۔ 60,000 سے زیادہ افراد کو ریسکیو کیا گیا، جبکہ 61,999 مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
متعدد افراد چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے، جنہیں بعد ازاں ریسکیو اہلکاروں نے نکالا۔ کمالیہ سے چیچہ وطنی، فیصل آباد اور موٹر وے M-3 جانے والا روڈ بھی کلائرہ اڈا کے قریب زیرِ آب آ گیا، جس کے باعث تمام ٹریفک معطل ہو گئی۔
ساہیوال اور چیچہ وطنی کے 94 اسکول بند، 23,000 طلبا متاثر
ساہیوال ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے سی ای او تنویر غزالی کے مطابق، دریائے راوی کے متاثرہ علاقوں میں واقع 94 سرکاری تعلیمی ادارے مزید 7 دنوں کے لیے بند کر دیے گئے ہیں، جس سے تقریباً 22,000 سے 23,000 طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔
سندھ کو خطرہ، 16 لاکھ افراد خطرے میں
سیلابی صورتحال سندھ میں بدترین شکل اختیار کر رہی ہے، جہاں دریائے سندھ میں 775,000 سے 850,000 کیوسک پانی آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ماہر سیلابی امور محمد احسن لغاری نے خبردار کیا کہ سندھ کے 14 اضلاع میں 273,000 خاندان اور 16 لاکھ 50 ہزار افراد خطرے سے دوچار ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ کے 1,400 میل طویل پشتوں میں 140 سے زیادہ کمزور مقامات ہیں، جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ گڈو، سکھر اور کوٹری بیراجوں پر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2010 کی طوری بند والی تباہی دہرائی جا سکتی ہے۔
24,000 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے اور 300 سے زیادہ ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں، لیکن بیشتر لوگ اپنے مویشیوں کی وجہ سے نقل مکانی کرنے سے گریزاں ہیں۔
سیالکوٹ ایئرپورٹ پانچ دن بعد بحال، پارکنگ ایریا اب بھی زیرِ آب
سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پانچ دن کی بندش کے بعد گزشتہ شام 6 بجے دوبارہ کھول دیا گیا، لیکن پارکنگ ایریا میں اب بھی پانی جمع ہے۔ ایئرپورٹ حکام کے مطابق، مسافروں کو باہر سے بسوں کے ذریعے ٹرمینل تک پہنچایا جا رہا ہے۔
اتحاد اور ہنگامی اقدام وقت کی ضرورت
ماہرین اور حکام نے زور دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وفاقی و صوبائی ادارے متحد ہو کر ایک ہم آہنگ، کثیر سطحی حکمتِ عملی کے تحت کام کریں تاکہ انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔
محمد احسن لغاری نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’ ہم نے اس سیلاب کو سمندر تک پہنچانا ہے، وقت کم ہے اور دریا کسی کا انتظار نہیں کرتا‘۔
ایم ڈی ایم این اے کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں41 افراد جاں بحق ہوئے، ہیڈ سدھنائی پر 117,000 کیوسک، چناب اور راوی کا ملاپ ملتان میں متوقع ہے، کمالیہ کے80 دیہات زیرِ آب، 60,000 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔
اعداد وشمار میں بتایا گیا کہ94 اسکول بند،23,000 طلبا متاثر ہوئے ہیں، سندھ کو850,000 کیوسک کا سامنا، 273,000 خاندان خطرے میں ہیں،24,000 افراد کو منتقل، 300 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ سیالکوٹ ایئرپورٹ بحال، پارکنگ ایریا اب بھی متاثرہے