قومی اسمبلی میں پیش کی گئی سرکاری دستاویز کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو 2023 سے 2026 کے دوران مجموعی طور پر 5 لاکھ 23 ہزار 749 سائبر کرائم شکایات موصول ہوئیں، تاہم اس عرصے میں صرف 199 مقدمات میں سزائیں ہو سکیں۔
اعداد و شمار کے مطابق چار سال کے دوران شکایات کے مقابلے میں سزا کی مجموعی شرح صرف 0.038 فیصد رہی، جس نے سائبر جرائم کی تحقیقات اور قانونی کارروائی کے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بڑھتے ہوئے سائبر کرائم کیسز تحقیقاتی عمل، ڈیجیٹل شواہد اکٹھا کرنے اور کامیاب پراسیکیوشن کے لیے بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں 1 لاکھ 34 ہزار 710 شکایات موصول ہوئیں جبکہ 92 سزائیں ہوئیں۔ 2024 میں شکایات بڑھ کر 1 لاکھ 61 ہزار 828 ہو گئیں مگر سزائیں کم ہو کر 60 رہ گئیں۔2025 میں 1 لاکھ 57 ہزار 465 شکایات درج ہوئیں جبکہ صرف 39 افراد کو سزا ملی۔2026 میں اب تک 77 ہزار 23 شکایات سامنے آئیں لیکن صرف 8 سزائیں ریکارڈ ہو سکیں۔
دستاویز کے مطابق( NCCIA) نے 4 سال میں 4 لاکھ 14 ہزار 852 شکایات کی ویری فکیشن کی، جبکہ مجموعی طور پر 80 ہزار 90 انکوائریاں شروع کی گئیں۔اسی عرصے میں 5 ہزار 755 سائبر کرائم مقدمات درج کیے گئے اور 7 ہزار 600 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ عدالتوں نے 4 سال کے دوران 877 ملزمان کو بری کیا۔ماہرین کے مطابق سائبر کرائم مقدمات میں کم سزا کی بڑی وجوہات میں جدید فرانزک تقاضے، بیرون ملک موجود ڈیجیٹل شواہد تک رسائی میں مشکلات اور پیچیدہ قانونی تقاضے شامل ہیں۔