اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ریٹائرڈ) حفیظ الرحمان کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے ان کی تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ٹیکنالوجی اتھارٹی کا چیئرمین اب عارضی طور پر کسی سب سے سینیئر ممبر کو مقرر کیا جائے۔ یہ فیصلہ جسٹس بابر ستار نے 99 صفحات پر مشتمل محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے دیا۔
پسِ پردہ اور قانونی موقف
میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان کی چیئرمین شپ مئی 2023 میں ہو گئی تھی، جب وفاقی حکومت نے انہیں پی ٹی اے کا چیئرمین اور ممبر (ایڈمنسٹریشن) مقرر کیا تھا۔
اس تعیناتی کے وقت یہ امر زیرِ بحث آیا کہ پی ٹی اے کے رائج اصول و ضوابط کے مطابق چیئرمین عموماً ’ٹیکنیکل ممبر‘ ہوتا ہے، مگر حکومت نے ممبر ایڈمنسٹریشن کا نیا عہدہ تخلیق کیا جس سے کل ممبران کی تعداد بڑھائی گئی۔
عدالت کا حکم اور فیصلہ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے یہ حکم دیا ہے کہ حفیظ الرحمان کی چیئرمین شپ غیر قانونی ہے۔ عدالت نے منظور کیا ہے کہ ان کی جگہ سب سے سینیئر ممبر کو چیئرمین مقرر کیا جائے۔
درخواست منظور کرتے ہوئے عدالت نے ان کی تعیناتی کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والی تمام قانونی دلائل کو صحیح قرار دیا۔ فیصلہ 99 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں عدالتی دلائل، آئینی، قانونی شقیں اور تعیناتی کے عمل کی جانچ شامل ہے۔
حفیظ الرحمان عہدے سے ہٹائے جائیں گے اور پی ٹی اے کی سربراہی سینیئر ممبر کے سپرد کی جائے گی۔ ممکن ہے وفاقی حکومت یا متعلقہ ادارے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں، سپریم کورٹ میں جانے کا امکان موجود ہے۔