اس حوالے سے پنجاب فلم سٹی اتھارٹی ایکٹ 2025 پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت اتھارٹی فلم، ڈرامہ اور ڈاکیومنٹری کی تیاری کی سرپرستی کرے گی جبکہ اس کے اخراجات حکومت پنجاب برداشت کرے گی۔
ذرائع کے مطابق نئی اتھارٹی کے قیام سے فلم پالیسی، قواعد و ضوابط اور لائسنسنگ کا باقاعدہ نظام متعارف ہوگا۔ فلم سازوں کو اجازت ناموں کے حصول میں آسانی کے لیے ون ونڈو آپریشن فراہم کیا جائے گاجبکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے خصوصی مراعات بھی دی جائیں گی۔
اس کے علاوہ فلم سٹوڈیوز، فلم سٹی اور جدید پوسٹ پروڈکشن سہولیات کے قیام کی راہ ہموار کی جائے گی۔ نئے ٹیلنٹ کی تربیت کے لیے ٹریننگ پروگرامز شروع کیے جائیں گے جبکہ فنڈنگ، گرانٹس اور سبسڈی کا نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پنجاب کی ثقافت، سیاحت اور مثبت تشخص کو فلم کے ذریعے عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے گا۔ اتھارٹی فلم انڈسٹری سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے بھی بااختیار ہوگی۔
بل کو مزید غور کے لیے دو ماہ کے لیے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا ہے جو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ بعد ازاں بل کی منظوری پنجاب اسمبلی سے لی جائے گی اور حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے۔