معرکہ حق میں شکست، حقائق چھپانے پر بھارتی اپوزیشن نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو آڑھے ہاتھوں لےلیا

معرکہ حق میں شکست، حقائق چھپانے پر بھارتی اپوزیشن نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو آڑھے ہاتھوں لےلیا

معرکہ حق کے بعد بھارتی جنگی بیانیے پر نئے سوالات اٹھنے لگے، فوجی نقصانات کے اعتراف نے مودی حکومت کو سیاسی دباؤ میں ڈال دیا۔ پاکستان کے خلاف بڑے دعوے کرنے والی بھارتی حکومت کو پاکستان کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے بعد اپنے ہی ملک میں اپوزیشن کی شدید تنقید کا سامنا ہے

بھارتی حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ پر پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان سے استعفے کا مطالبہ کردیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق کانگریس کے سابق فوجی افسران کے شعبے کے سربراہ کرنل (ر) روہت چوہدری اور ونگ کمانڈر (ر) انوما اچاریہ نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ حکومت نے جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے فوجیوں کی معلومات عوام سے چھپائیں۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو بھی اس معاملے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

 یہ بھی پڑھیں :نئے بھارتی آرمی چیف نے پہلے دن ہی لنکا ڈھا دی، آپریشن سندور میں ناکامی کا اعتراف

کانگریس رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو عہدے سے ہٹایا جائے جبکہ حکمران جماعت کے ارکان پارلیمنٹ سے بھی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کا الزام ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی فوج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے اور فوجی معاملات کو انتخابی فائدے کے لیے پیش کرتی ہے۔

کانگریس رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جب وزیر دفاع نے پارلیمنٹ میں فوجی ہلاکتوں کی تردید کی تو حکومتی ارکان نے ان کے بیان کی حمایت کی، تاہم بعد میں صورتحال مختلف سامنے آئی۔ اپوزیشن نے سوال اٹھایا کہ اگر فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے تو ان کے نام ظاہر کرنے میں اتنا وقت کیوں لگا۔

رپورٹس کے مطابق بھارتی حکومت نے ایک سال بعد پہلی مرتبہ 26 جون کو تسلیم کیا کہ مبینہ طور پر آپریشن سندور کے دوران 6 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھ جبکہ ان کے نام نیشنل وار میموریل کی ویب سائٹ پر بھی شامل کیے گئے۔

  یہ بھی پڑھیں :پاکستان کیخلاف جنگ میں 4 بھارتی پائلٹ سمیت 250 سے زائد فوجی ہلاک ہونے کا انکشاف

اسی معاملے پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے لوک سبھا کے اسپیکر کے سامنے راج ناتھ سنگھ کے خلاف تحریک استحقاق بھی جمع کرادی۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر کوئی وزیر پارلیمنٹ کو غلط معلومات فراہم کرے یا حقائق چھپائے تو یہ پارلیمانی استحقاق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

editor

Related Articles