سی ٹی او لاہور نے ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے مہلک اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ پر لائسنس 6 ماہ سے 3 سال تک معطل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کے پیشِ نظر چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور نے سڑکوں کو محفوظ بنانے اور انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے ایک انتہائی سخت اور بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔
نئے احکامات کے مطابق شہر میں کسی بھی مہلک حادثے (جان لیوا حادثے) کی صورت میں ذمہ دار ڈرائیور کا ڈرائیونگ لائسنس فوری طور پر معطل کر دیا جائے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر اودھم مچانے اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ (رکوایس ڈرائیونگ) کرنے والے ڈرائیورز کے خلاف بھی سخت ایکشن لیتے ہوئے ان کے لائسنس معطل کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔
سی ٹی او لاہور کی جانب سے جاری کردہ وارننگ میں واضح کیا گیا ہے کہ لائسنس معطلی کی سزا کے باوجود اگر کوئی ڈرائیور دوبارہ گاڑی چلاتا ہوا پکڑا گیا، تو اسے بھاری جرمانے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ فوجداری مقدمے کا سامنا کرنا ہو گا اور اسے جیل بھی بھیجا جا سکتا ہے۔
لائسنس معطلی کی مدت اور بحالی کے لیے سخت شرائط
سٹی ٹریفک پولیس لاہور کے مطابق، سڑکوں پر دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کرنے پر ڈرائیور کا لائسنس کم از کم 6 ماہ اور زیادہ سے زیادہ 3 سال کے لیے معطل رہے گا۔
دوسری جانب اگر کسی حادثے میں کسی شہری کی جان چلی جاتی ہے، تو متعلقہ ڈرائیور کا لائسنس مستقل بلاک کر دیا جائے گا اور اس کی بحالی کو صرف اور صرف عدالتی حکم سے مشروط کیا گیا ہے۔ جب تک عدالت حکم جاری نہیں کرے گی، ٹریفک پولیس ڈرائیور کو نیا لائسنس جاری نہیں کرے گی۔
سی ٹی او لاہور نے تمام وارڈنز اور افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب شہر کی سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ’زیرو ٹالرینس پالیسی‘ اپنانا ہو گی اور کسی بھی بااثر شخصیت یا سفارش کو خاطر میں لائے بغیر قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
لاہور میں ٹریفک قوانین اور حادثات کی صورتحال
لاہور جیسے ایک کروڑ سے زیادہ آبادی والے میٹروپولیٹن شہر میں گاڑیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، جس کے ساتھ ہی تیز رفتاری، ون وے کی خلاف ورزی اور کم عمر ڈرائیورز کی جانب سے کی جانے والی لاپرواہی کے باعث روزانہ درجنوں حادثات رپورٹ ہوتے ہیں۔
ماضی میں ٹریفک پولیس کی کارروائی صرف چالان اور معمولی جرمانے تک محدود تھی، جس کی وجہ سے بگڑے ہوئے اور لاپروا ڈرائیورز قانون کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔
اس سے قبل بھی ٹریفک پولیس نے بغیر لائسنس گاڑی چلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا تھا، لیکن لائسنس کی معطلی اور دوبارہ گاڑی چلانے پر براہِ راست مقدمے کا یہ اقدام اب تک کا سب سے سخت قانون نافذ کرنے کا طریقہ کار ہے۔
سخت قوانین کے نفاذ کے سڑکوں کے امن پر اثرات
ٹریفک قوانین کے ماہرین اور سماجی حلقوں نے سی ٹی او لاہور کے اس فیصلے کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں چالان کے پیسوں سے زیادہ خوف ’لائسنس کے پوائنٹس کٹنے‘ یا ’لائسنس معطل’ ہونے کا ہوتا ہے، کیونکہ لائسنس جانے کا مطلب شہری کا سڑک پر گاڑی چلانے کا حق ختم ہونا ہے۔ 6 ماہ سے 3 سال تک کی معطلی لاپرواہ ڈرائیوروں کے لیے ایک مؤثر سبق ثابت ہو گی۔
تاہم، اس قانون کی اصل کامیابی اس کے ‘بلاتفریق نفاذ’ میں چھپی ہے۔ اگر ٹریفک وارڈنز نے بغیر کسی دباؤ کے ہر چھوٹے بڑے، امیر اور غریب پر اس قانون کا اطلاق کیا، تو لاہور کی سڑکوں پر حادثات کی شرح میں 50 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ لائسنس معطلی کے بعد ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے مانیٹرنگ کرنا ہو گی تاکہ معطل شدہ لائسنس کا حامل شخص کسی دوسرے شہر یا آن لائن سسٹم کا فائدہ اٹھا کر دوبارہ گاڑی نہ چلا سکے۔