برطانیہ میں جاری شدید گرمی کی لہر نے شہریوں کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ موسمی ریکارڈ کے مطابق جون 2026 ملک کی تاریخ کے گرم ترین مہینوں میں شامل ہو گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق 1884 سے شروع ہونے والے ریکارڈ میں گزشتہ ماہ برطانیہ اور ویلز کے لیے جون کا مہینہ دوسرا گرم ترین ثابت ہوا۔
موسمی ماہرین کے مطابق سال 2026 کے دوران درجہ حرارت مسلسل معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے جو خطے میں بڑھتی ہوئی گرمی کے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت صرف دن کے اوقات تک محدود نہیں رہی بلکہ رات کے وقت بھی غیر معمولی درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔
برطانوی محکمہ موسمیات کے مطابق جون کے دوران برطانیہ، ویلز اور اسکاٹ لینڈ کے مختلف علاقوں میں رات کے درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گرمی کی لہر نے پورے موسم پر نمایاں اثر ڈالا۔
رپورٹس کے مطابق سرے کے علاقے چارلووڈ میں درجہ حرارت 35.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جو جون کے مہینے میں ریکارڈ کیے گئے سابقہ بلند ترین درجہ حرارت سے بھی زیادہ ہے۔ اس سے قبل 1976 میں جون کے دوران 35.6 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے یہ واقعات عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو مزید نمایاں کر رہے ہیں جس کے باعث یورپ کے کئی ممالک کو شدید گرمی کی لہروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔