ملک بھر میں طویل عرصے سے جاری شدید گرمی کے بعد مون سون کی پہلی بارشوں نے موسم کا رخ بدل دیا، جڑواں شہروں سمیت مختلف علاقوں میں بارش کے بعد درجہ حرارت میں کمی اور موسم خوشگوار ہوگیا، تاہم ممکنہ سیلابی صورتحال اور قدرتی آفات کے پیش نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کردی ہے۔
مون سون کے پہلے اسپیل کے آغاز کے ساتھ ہی اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں کہیں تیز اور کہیں ہلکی بارش ریکارڈ کی گئی جس سے کئی روز سے جاری شدید گرمی کی شدت میں نمایاں کمی آئی۔ بارش کے باعث ٹھنڈی ہواؤں کا سلسلہ شروع ہوا اور شہریوں نے موسم میں تبدیلی کو خوش آئند قرار دیا۔
اسلام آباد کی جناح سپر مارکیٹ میں پارکنگ کے مقام پر دو گاڑیوں پر درخت گرنے کا واقعہ پیش آیا جبکہ پی ڈبلیو ڈی انڈر پاس میں پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔ انتظامیہ کی جانب سے صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات کیے گئے۔
آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد، باغ، راولاکوٹ اور دیگر علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی، جس کے بعد موسم خوشگوار ہوگیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا یہ سلسلہ 6 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
اس سے قبل ملک کے مختلف علاقوں میں گرمی کی شدت برقرار رہی، جہاں نوکنڈی اور دالبندین میں درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دادو میں 46 اور سبی میں 45 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت نوٹ کیا گیا۔ پشاور میں محسوس کیے جانے والے درجہ حرارت (فیل لائک) نے بھی شدید گرمی کی صورتحال کو ظاہر کیا۔
دوسری جانب این ڈی ایم اے نے مون سون کے دوران ممکنہ خطرات سے متعلق الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کا خدشہ موجود ہے۔
این ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی مشینری تیار رکھنے، نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور دریاؤں کے کناروں پر آباد شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔