پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان ڈیورنڈ لائن پر جھڑپ کے دوران سوشل میڈیا پر پاکستانی طیارے کو مار گرائے جانے کی جعلی ویڈیو گردش کر رہی ہے جو کہ بھارت کے ایکس ہینڈلز کی جانب سے شیئر کی جا رہی ہے، یہ ایک گمراہ کن مہم ہے جو بے نقاب ہو کر رہ گئی ہے۔
پاکستان میں سوشل میڈیا پر جعلی معلومات اور ویڈیوز کو مانیٹر کرنے والے ادارے ’آزاد فیکٹ چیک‘ نے پاکستان ایئر فورس کے طیارے کے حادثے کے حوالے سے بھارت کے مختلف ایکس ہینڈلز کی جانب سے پھیلائی جانے والی گمراہ کن معلومات کی نشاندہی کی ہے۔
بھارت کے ایکس ہینڈلز نے راجستھان میں بھارتی ایئر فورس کے طیارے کے حادثے کی ویڈیو کو استعمال کرتے ہوئے اسے پاکستان ایئر فورس کے طیارہ قرار دیا ہے ساتھ اس ویڈیو کو اس کیپشن کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے کہ یہ ایک پاکستانی طیارہ ہے جسے افغان فورسز نے مار گرایا ہے۔
Azaad Fact Check has identified spread of disinformation by multiple India based X handles regarding Pakistan Airforce jet crashed.
India based X handles are using video of Indian Airforce jet Crash in Rajasthan and defaming Indian Airforce themself. https://t.co/QYWPae8ebvpic.twitter.com/9XEdwpvXft
آزاد فیکٹ چیک کے مطابق، یہ ویڈیو اصل میں بھارت کے اندر پیش آنے والے ایک بھارتی ایئر فورس کے حادثے کی ہے، جسے غلط سیاق و سباق کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کے فوجی دستوں کا مورال گرایا جا سکے اور پاک فضائیہ کو بدنام کیا جا سکے۔
تحقیقات کے بعد آزاد فیکٹ چیک نے انکشاف کیا کہ یہ بھارت سے چلنے والے ’ایکس‘ اکاؤنٹس دراصل ایک بھارتی فضائیہ کے طیارہ حادثے کی ویڈیو کو گردش میں لا رہے ہیں، جو راجستھان، بھارت میں پیش آیا تھا اور اسے غلط طور پر پاکستان ایئرفورس کے ساتھ منسوب کیا جا رہا ہے۔
اس طرزِ عمل سے نہ صرف جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے بلکہ خود بھارتی فضائیہ کی بدنامی بھی ہو رہی ہے، کیونکہ ایک پرانے واقعے کو پاکستان کے خلاف جھوٹا بیانیہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ ویڈیو، جو ایک بھارتی فضائیہ کے طیارے کے حادثے کے بعد کے مناظر پر مشتمل ہے، دراصل بھارت کی حدود میں پیش آنے والے ایک پرانے واقعے کی ہے۔ تاہم جن اکاؤنٹس نے یہ ویڈیو شیئر کی، انہوں نے اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر استعمال کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ پاکستانی طیارے کے گرنے کی ویڈیو ہے، جسے افغان فورسز نے مار گرایا ہے۔
آزاد فیکٹ چیک نے سوشل میڈیا صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ اس طرح کے دعوؤں کی صداقت کی تصدیق کیے بغیر انہیں شیئر نہ کریں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ذمہ داری سے استعمال کریں تاکہ جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ ادارے نے یہ بھی کہا کہ ایسی غلط معلومات سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے، اس لیے اس کے تدارک کے لیے سرحد پار تعاون ناگزیر ہے۔
یہ واقعہ ڈیجیٹل دور میں جھوٹی معلومات کے پھیلاؤ کے بڑھتے ہوئے چیلنج کو اجاگر کرتا ہے، جہاں گمراہ کن مواد تیزی سے وائرل ہو کر عوامی رائے اور سفارتی تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ حکام اور فیکٹ چیکرز مسلسل ایسے جھوٹے بیانیے کی نشاندہی اور روک تھام کے لیے کوشاں ہیں تاکہ حقائق پر مبنی مکالمے اور امن کو فروغ دیا جا سکے۔