افغانستان سے پاکستان کی جانب مبینہ میزائل حملے میں افغان طالبان کی جانب سے سوویت دور کے خطرناک ’ایلبروس‘ بیلسٹک میزائل سسٹم کے استعمال کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس نے خطے میں سیکیورٹی خدشات کو شدید بڑھا دیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ملٹری انٹیلی جنس ذرائع اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 12 اکتوبر 2025 کی رات افغانستان کے ایک مقام سے 2 بیلسٹک میزائل داغے گئے، جن کی ویڈیو مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر گردش کر رہی ہے۔ ویڈیو میں رات کی تاریکی میں میزائلوں کو فائر کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد آسمان پر روشن دھماکوں کا منظر نمایاں ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کرم : افغان طالبان اورفتنہ الخوارج کی بلااشتعال فائرنگ پر پاک فوج کی مؤثرجوابی کارروائی، متعدد پوسٹیں و ٹینک تباہ
میزائل سسٹم کی شناخت
رپورٹس کے مطابق طالبان کے قافلوں میں سابق سوویت یونین کے چھوڑے گئے 8K14 (R-17 Scud-B) اور 9M21F (Luna-M) قسم کے میزائلوں کی نقل و حرکت دیکھی گئی۔ ان میں سے 9K72 ’ ایلبروس‘ میزائل ایک بیلسٹک میزائل ہے جسے سرد جنگ کے دوران سوویت فوج نے تیار کیا تھا۔ یہ میزائل 300 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس میں روایتی یا کیمیائی ہتھیار نصب کیے جا سکتے ہیں۔
#Afghanistan / #Pakistan 🇦🇫🇵🇰: #Taliban reportedly deployed #USSR Ballistic Missiles and Artillery Rockets to the border.
Seemingly 8K14 “R-17” Ballistic Missiles (part of 9K72 “Elbrus” Scud-B System) and 9M21F artillery rockets (part of 9K52 “Luna-M” System) were deployed. pic.twitter.com/dMmLi0OAap
— War Noir (@war_noir) October 13, 2025
طالبان کے پاس یہ میزائل کہاں سے آئے؟
یہ میزائل سسٹمز طالبان کو براہِ راست حاصل نہیں ہوئے بلکہ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں سوویت فوج کے افغانستان چھوڑنے کے بعد وہاں موجود کئی فوجی اثاثے مختلف گروہوں کے قبضے میں چلے گئے تھے۔ 2022 میں طالبان نے ان پرانے ہتھیاروں کی ایک نمائش میں ’ایلبروس‘ اور ’لونا ایم‘ سسٹمز کو عوامی سطح پر پیش کیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے ان سسٹمز کو بحال کر لیا ہے اور اب ممکنہ طور پر ان کا عملی استعمال بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
ملیٹری ذرائع کا ردعمل
ملٹری تجزیاتی ویب سائٹ ’ملیٹرنی‘ کی رپورٹ کے مطابق، یہ حملہ ممکنہ طور پر ایک سیاسی یا عسکری پیغام رسانی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ میزائل حملے سے کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم پاکستانی سیکیورٹی ادارے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں۔
سفارتی سطح پر تشویش
اس مبینہ حملے نے دونوں ممالک کے تعلقات میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید ہوا دی ہے۔ پاکستان کی جانب سے اب تک سرکاری طور پر کوئی بیان جاری نہیں ہوا، تاہم غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق، پاکستانی دفتر خارجہ نے کابل میں طالبان نمائندوں سے واقعے کی وضاحت طلب کی ہے۔
— Untold News (@Untoldnewsoff) October 11, 2025

