پاکستان کی خارجہ پالیسی متوازن، کیمپ سیاست کو مسترد کرتے ہیں، رضوان سعید شیخ

پاکستان کی خارجہ پالیسی متوازن، کیمپ سیاست کو مسترد کرتے ہیں، رضوان سعید شیخ

پاکستان کے امریکا میں سفیر رضوان سعید شیخ نے پاکستان کے سفارتی، استحکام پر مبنی اور حقیقت پسندانہ معاشی پالیسیوں کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کی شراکت داری ’امن اور ترقی کے لیے ناگزیر‘ہے، پاکستان چین اور امریکا کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے پل کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

واشنگٹن میں منعقدہ گیارہویں سالانہ فیوچر سیکیورٹی فورم 2025 کی تقریب کے دوران ’امریکا۔پاکستان تعلقات کا مستقبل‘ کے عنوان سے ایک پینل مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے سفیر شیخ نے کہا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات ’اختیار یا ترجیح کا نہیں بلکہ ناگزیر حقیقت کا معاملہ ہیں‘ ۔

یہ بھی پڑھیں:جوہری خطے میں طبل جنگ بجانا غیر ذمہ دارانہ فعل ہے،  رضوان سعید شیخ

یہ تقریب ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی اور نیو امیریکا کے اشتراک سے سیکیورٹی اینڈ ڈیفنس پلس کے تعاون سے منعقد کی گئی، جس میں اعلیٰ سطح کے پالیسی سازوں، دفاعی ماہرین اور دانشوروں نے عالمی سلامتی کی ابھرتی ہوئی جہتوں پر تبادلہ خیال کیا۔

پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے پاکستان اور امریکا کے دیرینہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے دہشتگردی کے خاتمے اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے عالمی چیلنجز پر قریبی تعاون کیا ہے۔ انہوں نے امریکی قیادت، خصوصاً صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے حالیہ 88 گھنٹے کے تصادم کے خاتمے کے لیے جنگ بندی میں سہولت فراہم کی، جسے انہوں نے ’ایسا اہم اقدام قرار دیا جو 1.7 ارب آبادی والے جوہری خطے میں کشیدگی بڑھنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوا‘۔

انہوں نے متعدد علاقائی و عالمی امور بشمول ماحولیاتی تبدیلی، بھارت۔پاکستان تعلقات، بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں کشمیر (آئی آئی او جے کے)کی صورتحال، چین۔پاکستان تعلقات، یوکرین تنازع اور افغانستان پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد سفارت کاری اور استحکام پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے ’ایک وجودی بحران‘ بن چکی ہے۔ انہوں نے بارشوں، سیلابوں اور نئے ابھرتے ماحولیاتی مظاہر جیسے’کلاؤڈ برسٹ‘ اور ’تواتر سے آنے والی آفات’ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان آفات نے ترقیاتی منصوبوں اور معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’جو کچھ ہم چند برسوں میں بناتے ہیں وہ سیلاب بہا لے جاتا ہے، لیکن قرض پھر بھی ہمیں واپس چکانا پڑتا ہے‘، ۔

یہ بھی پڑھیں:جذبۂ ’بُنْیَانُ مَّرصُوصْ‘کو معاشی ترقی تک بڑھانے کی ضرورت ہے، رضوان سعید شیخ

سفیر رضوان سعید شیخ نے کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے اصولی مؤقف کو دہراتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دلانے میں کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اسی تنازع کے حل سے وابستہ ہے۔

انہوں نے ’کیمپ سیاست‘ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی متوازن تعلقات پر مبنی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تاریخی تسلسل اور اقتصادی تعاون پر استوار ہیں۔ ’ہمارے لیے کوئی 2 رخی انتخاب نہیں، چین سے ہمارا تعلق نہ کل شروع ہوا تھا، نہ کل ختم ہوگا‘،۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک کو ’معاشی خوشحالی اور علاقائی رابطے‘ کے زاویے سے دیکھا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں:بنیان مرصوص کے جذبے کو معاشی ترقی اور اقتصادی اہداف تک بڑھانے کی ضرورت ہے: رضوان سعید شیخ

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے ماضی میں امریکا اور چین کے درمیان تعلقات بحال کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور آج بھی پاکستان ’عالمی امن و ترقی کے لیے ایک معاشی پل‘ کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے سرحد پار دہشتگردی کی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف بھاری قیمت چکائی ہے، لیکن اس کے باوجود سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان صرف غیر دستاویزی یا غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کر رہا ہے، اور ان کی باوقار واپسی کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک۔افغان سرحد پر آمد و رفت بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ویزا سسٹم کے تحت ہونی چاہیے۔

یوکرین تنازع پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے صدر ٹرمپ کی قیادت میں جاری امریکی امن کوششوں کا خیرمقدم کیا اور ان کی کامیابی کی امید ظاہر کی۔

اختتامی کلمات میں سفیر شیخ نے فورم کے منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور سوال و جواب کے سیشن میں شرکا کے ساتھ مفید تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ عالمی امن، مکالمے، اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے پُرعزم رہے گا۔

Related Articles