وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف کے آزاد کشمیر انتخابات سے بائیکاٹ کے فیصلے کو سیاسی کمزوری اور انتخابی میدان سے فرار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام کسی اصولی سیاست کی عکاسی نہیں کرتا۔
طارق فضل چوہدری نے اپنے بیان میں کہا کہ خود کو بڑی عوامی جماعت کہنے والی تنظیم دراصل عوام کے فیصلے سے بچنے کے لیے جواز تراش رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر واقعی جمہوریت اور عوامی حقوق پر یقین ہوتا تو سیاسی جماعتیں انتخابی میدان میں اترتیں اور ووٹ کے ذریعے اپنی پالیسیوں کا دفاع کرتیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ انتخابی عمل کا بائیکاٹ دراصل عوام کے حقِ رائے دہی کی توہین کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں احتجاج اور تحفظات کا حق موجود ہے لیکن عوامی مینڈیٹ سے بچنے کے لیے انتخابات سے کنارہ کشی اختیار کرنا ایک ناکام سیاسی حکمت عملی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتیں عوام کے فیصلوں سے نہیں بھاگتیں بلکہ ان کا سامنا کرتی ہیں۔ ان کے مطابق انتخابات سے فرار کسی اصول کی علامت نہیں بلکہ عوامی اعتماد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل قیادت وہی ہوتی ہے جو عوام کے پاس جا کر ووٹ حاصل کرے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام جذباتی نعروں کے بجائے عملی سیاست اور جمہوری عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق عوام بخوبی جانتے ہیں کہ حقیقی مینڈیٹ صرف بیلٹ باکس کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے نہ کہ بائیکاٹ یا سیاسی نعروں کے ذریعے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے آزاد کشمیر انتخابات سے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ پارٹی قیادت اور اتحادیوں کے مشورے سے کیا گیا ہے اور اس کا مقصد آزاد کشمیر کے عوام کے جذبات اور موجودہ حالات کو مدنظر رکھنا ہے۔