وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کرنا ہوگا کیونکہ اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قیمتی جانوں کی قربانیاں دے رہی ہیں اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو قومی مفاد میں متحد ہونا چاہیے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ دہشت گردوں کو طاقت سے شکست دینا ہوگی جبکہ سیاست دانوں کو اپنی سیاسی اختلافات اور ذاتی انا کو پس پشت ڈال کر ملک کے وسیع تر مفاد کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش ایک مثبت پیش رفت ہے اور اگر تمام سیاسی قوتیں قومی مفاد کو مقدم رکھیں تو ملک کو درپیش چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکتا ہے۔
طارق فضل چوہدری نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے حوالے سے کہا کہ جن افراد کے خلاف مقدمات درج نہیں وہ انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں تاہم جن پر قانونی مقدمات ہیں انہیں قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی۔
وفاقی وزیر نے مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں کے حوالے سے کہا کہ یہ نشستیں ختم نہیں کی جا سکتیں اور اگر اس معاملے پر کوئی اعتراض ہے تو اسے آزاد کشمیر اسمبلی میں اٹھایا جا سکتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست کسی بھی صورت تشدد کی اجازت نہیں دے سکتی اور قانون کی بالادستی ہر حال میں یقینی بنائی جائے گی۔