پنجاب میں حافظ آباد ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسموگ کے تدارک اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات جاری ہیں۔ ضلعی حکومت، ماحولیات، زراعت، ٹرانسپورٹ اور ٹریفک پولیس سمیت متعلقہ محکموں کی مشترکہ کارروائیوں کے دوران فصلوں کی باقیات جلانے، دھواں چھوڑنے والے بھٹوں، فیکٹریوں اور گاڑیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر ایکشن لیا گیا ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 41 لاکھ 65 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔
بھٹے اور فیکٹریاں سیل
دھواں خارج کرنے اور ماحولیاتی ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والے 3 بھٹے سیل کر دیے گئے جبکہ 3 بھٹوں کو مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا۔ بھٹوں کے مالکان پر 9 لاکھ روپے کے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ اسی طرح اسموگ کا باعث بننے والی متعدد فیکٹریوں کے خلاف بھی کارروائی کرتے ہوئے انہیں 4 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا۔
فصلوں کی باقیات جلانے والوں کے خلاف مقدمات
ضلع بھر میں فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے والے 7 زمینداروں اور کسانوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے جبکہ انہیں مجموعی طور پر 6 لاکھ 60 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ فصلوں کی باقیات جلانے کا عمل ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا سبب بنتا ہے اور اس پر کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
ٹریفک اور ٹرانسپورٹ سیکٹر میں کارروائیاں
دوسری جانب ٹریفک پولیس نے دھواں چھوڑنے والی 993 گاڑیوں کے چالان کیے اور 19 لاکھ 86 ہزار روپے جرمانے وصول کیے۔
اسی طرح ضلعی ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے فضائی آلودگی پھیلانے والی 102 گاڑیوں کے چالان کیے اور انہیں 2 لاکھ 19 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔
ڈپٹی کمشنر حافظ آباد کا مؤقف
ڈپٹی کمشنر حافظ آباد نے کہا ہے کہ اسموگ ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ ہے جس سے انسانی صحت، زراعت اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں دن رات کارروائیاں کر رہی ہیں تاکہ فصلوں کی باقیات جلانے، دھواں چھوڑنے والے بھٹوں، گاڑیوں اور فیکٹریوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ماحول دوست رویہ اپنائیں، فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کریں اور گاڑیوں کی مینٹیننس باقاعدگی سے کروائیں تاکہ سموگ کے خطرناک اثرات سے بچا جا سکے۔