پشاور کے کینٹ ایریا میں واقع کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے تھانے میں اتوار کی صبح اچانک دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار شہید اور 3 زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق دھماکہ ’شارٹ سرکٹ‘ کے باعث ہوا، جس سے تھانے کی عمارت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا۔
سی سی پی او پشاور میاں سعید نے میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ ’سی ٹی ڈی تھانے میں ہونے والا دھماکہ کی تحقیقات جاری ہیں تاہم ابتدائی طور پر یہ کسی دہشت گرد کارروائی کا نتیجہ نہیں بلکہ شارٹ سرکٹ کے باعث پیش آیا۔‘ ان کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد زخمی اہلکاروں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئیں۔
عینی شاہدین کی تفصیلات
عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد تھانے میں آگ بھڑک اٹھی اور عمارت کا ایک حصہ مکمل طور پر گر گیا۔ علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔
ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے اور ملبے میں پھنسے اہلکاروں کو نکالنے کا عمل شروع کیا۔ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
پولیس اور ملٹری افسران کی آمد
پولیس اور ملٹری افسران بھی موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ سی سی پی او پشاور نے بتایا کہ ’ابتدائی معلومات کے مطابق یہ مرکزی تھانہ نہیں بلکہ انٹروگیشن کے لیے استعمال ہونے والا ذیلی یونٹ تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہماری تمام تر کوشش ہے کہ عوام کو بھرپور سیکیورٹی فراہم کی جائے اور کسی قسم کی افواہ یا خوف پھیلانے کی اجازت نہ دی جائے۔‘
ابتدائی رپورٹ
پولیس ذرائع کے مطابق دھماکے کے وقت عمارت میں موجود 4 مشتبہ افراد کو بھی بحفاظت باہر نکال لیا گیا ہے، جنہیں انٹروگیشن کے لیے وہاں لایا گیا تھا۔
سی ٹی ڈی کے ایک افسر نے بتایا کہ ’عمارت کے بجلی کے نظام میں خرابی کے باعث شارٹ سرکٹ ہوا جس سے آگ بھڑکی اور دھماکہ ہوا۔‘
واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور ریسکیو اہلکار موقع پر موجود رہے۔ دھماکے کے مقام سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ سی سی پی او پشاور نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔