ڈرگ فری پشاور مہم میں کروڑوں روپے کی خوردبرد، ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن معطل

ڈرگ فری پشاور مہم میں کروڑوں روپے کی خوردبرد، ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن معطل

صوبائی دارالحکومت پشاور میں منشیات کے خاتمے کے لیے شروع کی گئی مشہور ‘ڈرگ فری پشاور’ مہم سنگین بے ضابطگیوں کی زد میں آ گئی ہے۔ سیکریٹری محکمہ سماجی بہبود نے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن نور محمد کو انکوائری تک معطل کر دیا ہے۔

مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مہم کے دوران کروڑوں روپے کی مبینہ خوردبرد اور مالی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ محکمہ سماجی بہبود کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں مہم کے فنڈز کے استعمال اور شفافیت کے حوالے سے سنگین سوالات اُٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ زکوٰۃ و عشر کے ایڈیشنل سیکریٹری کی سربراہی میں تیار کی گئی، جس میں انتظامی اور مالی امور میں متعدد بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا نشے کے عادی افراد کو صحت کارڈ میں شامل کرنے کا اعلان

زکوٰۃ، عشر، خصوصی تعلیم اور ویمن ایمپاورمنٹ کے محکموں نے ڈائریکٹر ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’ڈرگ فری پشاور انیشی ایٹو‘ سے متعلق ابتدائی رپورٹ بمعہ سفارشات ارسال کی جا رہی ہے۔ اس خط میں خصوصی طور پر نکات نمبر 6 اور 7 پر توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے جو مبینہ طور پر فنڈز کے انتظام اور احتسابی عمل سے متعلق ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ کمیٹی کی رپورٹ میں کمزور نگرانی، اخراجات کی ناکافی دستاویزات، اور فنڈز کی ممکنہ منتقلی جیسے معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے لیے مکمل آڈٹ اور محکمانہ انکوائری کی جائے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

ادھر محکمہ کی جانب سے بھیجی گئی رپورٹ پر سیکریٹری زکوٰۃ، عشر، خصوصی تعلیم اور ویمن ایمپاورمنٹ نے کارروائی عمل میں لاتے ہوئے ایڈمن افیسر نور محمد کو عہدے سے معطل کرتے ہوئے ان کی جگہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد نعیم کو ڈپٹی ڈائریکٹر کا عہدہ دے دیا ہے، سیکریٹری کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری مکمل ہونے تک ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن اپنے عہدے سے معطل رہیں گے۔

ذرائع کے مطابق ’ڈرگ فری پشاو‘ مہم جسے بڑے پیمانے پر تشہیر کے ساتھ شروع کیا گیا تھا اور جس کا مقصد منشیات کے عادی افراد کی بحالی اور آگاہی مہمات چلانا تھا، اب اپنی ساکھ کھو چکی ہے۔ مبینہ بدعنوانی اور ناقص انتظامی نظام نے اس منصوبے پر اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

محکمہ سماجی بہبود کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اس معاملے پر مکمل تحقیقات کا ارادہ رکھتی ہے اور ڈائریکٹر ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے رپورٹ پر رائے دینے کے بعد مزید کارروائی متوقع ہے۔

مزید پڑھیں:علی امین گنڈاپور کا نئی نسل کی بقا کیلئے منشیات فروشوں کے خلاف اعلان جنگ

محکمہ سماجی بہبود کی طرف سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے تاہم ذرائع کے مطابق محکمہ سماجی بہبود کا کہنا ہے کہ تمام فریقین سے رپورٹ حاصل ہونے کے بعد ہی باضابطہ بیان جاری کیا جائے گا۔

ادھر سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی تفصیلات میں بعض صارفین نے کہا ہے کہ محکمہ نے مہم کے ڈائریکٹر کو معطل کر دیا ہے تاہم اس کی آزاد ذرائع سے کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

ایک وقت میں فلیگ شپ سوشل ریفارم پروجیکٹ کے طور پر شروع کی جانے والی ‘ڈرگ فری پشاور مہم’ اب مالی بدعنوانی، شفافیت کی کمی اور انتظامی غفلت کے الزامات میں گھِر گئی ہے، جس سے خیبر پختونخوا میں منشیات کے خلاف کوششوں کی افادیت پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

Related Articles