وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومت کو ایوان میں مطلوبہ حمایت حاصل ہے اور اس سلسلے میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان کسی قسم کا ڈیڈ لاک موجود نہیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت آئینی ترامیم کے ذریعے ملک کے دفاعی اور آئینی اداروں کو مزید مضبوط بنانا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کا مقصد ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا، عدالتی نظام میں بہتری لانا اور پارلیمانی نظام کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت کی اتحادی جماعتیں مکمل طور پر متفق ہیں اور بل کی منظوری کے لیے درکار نمبرز پورے کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہم چاہتے ہیں کہ ترمیم پر تمام جماعتوں کا اتفاق رائے ہو، لیکن اگر اپوزیشن غیرضروری مخالفت کرے گی تو ہم جمہوری طریقے سے قانون سازی آگے بڑھائیں گے۔’
عطا اللہ تارڑ نے وزیراعظم پاکستان کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے آئینی استثنیٰ لینے سے انکار کر کے ایک اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔ ان کے مطابق ‘یہ اقدام شفافیت، قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار کے فروغ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔’
ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے میں صدرِ مملکت کو استثنیٰ دینے میں کوئی قباحت نہیں ہے، کیونکہ آئینی عہدوں پر فائز شخصیات کو ادارہ جاتی استحکام کے پیش نظر مخصوص تحفظات فراہم کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ملک میں سیاسی استحکام اور آئینی تسلسل برقرار رکھنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے، اور توقع ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم ایوان بالا اور ایوان زیریں دونوں سے بھاری اکثریت کے ساتھ منظور ہو جائے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق عطا اللہ تارڑ کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب سینیٹ میں ترمیمی بل پر بحث جاری ہے اور حکومت کو دو تہائی اکثریت کے حصول کے لیے اتحادی جماعتوں کی حمایت درکار ہے۔