وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ایکشن کمیٹی کا مطالبہ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ 27 جولائی کو آزاد کشمیر کے انتخابات ہیں، جبکہ ایکشن کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ کشمیر اسمبلی کی پاکستان سے منتخب ہونے والی 12 نشستیں ختم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن سے پہلے یہ مطالبہ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جمہوری سوچ کا تقاضا ہے کہ جو لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں، وہ اسے 24 جولائی کو عوام کے سامنے رکھیں اور خلقِ خدا کو یہ فیصلہ کرنے دیں کہ نمائندگی کی شکل کیا ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق یہی جمہوری سوچ ہوگی، ورنہ اسے بلیک میلنگ تصور کیا جائے گا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ سیالکوٹ شہر و تحصیل سے کشمیر اسمبلی کی ایک مکمل نشست ہے، جبکہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی دو نشستیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باقی پاکستان میں بھی کشمیر اسمبلی کے حلقے پھیلے ہوئے ہیں اور یہاں کشمیری مہاجرین کی بڑی تعداد جموں سے تعلق رکھتی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اکتوبر 1947 میں مہاجرین دو لاکھ سے زائد جانوں کی قربانی دے کر سیالکوٹ شہر اور تحصیل میں آ کر آباد ہوئے۔ ان کے مطابق لاکھوں عصمتیں لٹیں اور ہزاروں بیٹیاں اغوا ہوئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان مہاجرین کو ان کے حق سے کس طرح محروم کیا جا سکتا ہے۔