پاکستانی ملازمت ویزا ہولڈرز کے لیے خوشخبری

پاکستانی ملازمت ویزا ہولڈرز کے لیے خوشخبری

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی نے ملازمت ویزا رکھنے والے افراد کے لیے ملک میں نئے پروٹیکٹر دفاتر قائم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ پروٹیکٹر سروسز کو مزید مؤثر، شفاف اور ایجنٹس سے آزاد بنانے کے لیے مکمل ڈیجیٹل انضمام ناگزیر ہے۔ اس ضمن میں نادرا اور دیگر سرکاری پلیٹ فارمز کے ساتھ مربوط نظام تشکیل دینے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ شناختی تصدیق کے مراحل جدید خطوط پر استوار کیے جا سکیں۔

کمیٹی کے چیئرمین سید رفیع اللہ نے اجلاس کے دوران گزشتہ ہدایات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا اور وزارتِ سمندر پار پاکستانی، بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ, وفاقی تحقیقاتی ایجنسی اور وزارتِ خارجہ سے پیش رفت رپورٹس طلب کیں۔

اجلاس میں حکام نے بتایا کہ نئے پروٹیکٹر دفاتر کے قیام کی منظوری کا عمل جاری ہے، تاہم بجٹ کی کمی اور عملے کی قلت جیسے مسائل رکاوٹ بن رہے ہیں۔ کمیٹی نے ان تاخیروں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے واضح ہدایات دیں کہ یہ دفاتر سال کے اختتام سے قبل ہر صورت فعال کر دیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: سفارتی محاذپر بھارت کو ایک اورجھٹکاایران نے بھارتی شہریوں کیلئے ویزا فری انٹری بند کردی

اجلاس میں ای پروٹیکٹر سسٹم کے تیز رفتار نفاذ پر بھی زور دیا گیا۔ حکام کے مطابق اب تک تقریباً 60 ہزار پاکستانی اس جدید پلیٹ فارم سے مستفید ہو چکے ہیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے ایس ایم ایس الرٹس، سوشل میڈیا اپڈیٹس اور مقامی سطح پر آگاہی مہمات شروع کی جائیں تاکہ بیرون ملک جانے والے افراد بغیر کسی ایجنٹ کے اس نظام سے براہِ راست فائدہ اٹھا سکیں۔

کمیٹی نے احتساب کے بہتر نظام کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے آن لائن سروس ٹریکنگ، تصدیق شدہ ادائیگی کی رسیدیں، اور شکایات کے بروقت حل کے نظام کو ضروری قرار دیا۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا کہ تمام سرکاری فیسیں صرف باضابطہ بینکنگ چینلز اور منظور شدہ ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹمز کے ذریعے ہی جمع کرائی جائیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

کمیٹی نے ایک بار پھر دو ٹوک موقف اپنایا کہ سمندر پار جانے والے پاکستانیوں کے تحفظ، سہولت اور اعتماد کے لیے پروٹیکٹر سسٹم کو جدید، شفاف اور ایجنٹس سے آزاد بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *