سندھ حکومت نے سرکاری ملازمتوں میں شفافیت بڑھانے اور اہل امیدواروں کو بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے نئی بھرتی پالیسی کا اعلان کردیا ہے، جس کے تحت امیدواروں کی تعلیمی کارکردگی کو بھرتی کے عمل میں خصوصی اہمیت دی جائے گی۔
اس پالیسی کا بنیادی مقصد بہتر تعلیمی پس منظر رکھنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ سرکاری اداروں میں زیادہ مستعد اور قابل افراد کی شمولیت یقینی بنائی جاسکے۔
تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت نے عوامی شعبے کی تمام ملازمتوں کے لیے یہ نئی پالیسی باقاعدہ طور پر نافذ کردی ہے۔ اس پالیسی کے مطابق گریڈ 5 سے گریڈ 15 تک کی تمام اسامیوں کے امیدواروں کو ان کی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر اضافی 5 پوائنٹس ملیں گے، تاہم اس سہولت کا اطلاق صرف ان امیدواروں پر ہوگا جن کے تعلیمی ریکارڈ میں کم از کم 50 فیصد نمبر ہوں۔ حکومت کے مطابق اس شرط کا مقصد صرف ان امیدواروں کو اضافی فوائد دینا ہے جنہوں نے واقعی اپنی تعلیمی زندگی میں قابلِ ذکر کارکردگی دکھائی ہو۔
پالیسی میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ انٹرمیڈیٹ کی سطح کے امیدواروں کو ٹیسٹ کے دوران اضافی 5 پوائنٹس فراہم کیے جائیں گے تاکہ اس سطح کے قابل نوجوانوں کو بہتر مواقع مل سکیں۔ اسی طرح آئی بی اے سکھر سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو بھی بھرتی کے عمل میں 5 اضافی پوائنٹس کی ضمانت دی گئی ہے، جسے حکومت نے میرٹ کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
یہ نئی بھرتی پالیسی صوبے کے تمام محکموں پر یکساں طور پر لاگو ہوگی۔ اس بات کی باضابطہ تصدیق سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اور کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ نے کردی ہے، جبکہ اس حوالے سے نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف بھرتی کے عمل میں شفافیت بڑھے گی بلکہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی سرکاری اداروں میں شمولیت بھی مزید آسان ہوگی، جس سے مجموعی طور پر انتظامی ڈھانچہ مضبوط ہونے کی توقع ہے۔