تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا ، نقل مکانی کوبحران کی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے،وفاقی وزراء

تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا ، نقل مکانی کوبحران کی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے،وفاقی وزراء

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی کو دانستہ طور پر ایک بڑے انسانی بحران کی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ تیراہ میں برفباری کے دوران عارضی نقل مکانی ایک معمول کا عمل ہے۔

وفاقی وزرا نے کہا کہ اس نقل مکانی کا پاک فوج یا کسی ممکنہ آپریشن سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ صوبائی حکومت اپنی انتظامی ناکامیوں کا ملبہ اداروں پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی وادی تیراہ میں شدید برفباری ہوتی ہے تو مقامی آبادی موسم کی شدت کے باعث محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو جاتی ہے جسے غیر ضروری طور پر سیکیورٹی مسئلہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ جرگے کے مشران کی ملاقاتیں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور صوبائی حکومت دونوں سے ہوئی ہیں، جبکہ فوج اس پورے عمل میں کہیں بھی شامل نہیں رہی۔ انہوں نے الزام  کہا کہ آپریشن سے متعلق محض مفروضوں اور افواہوں کی بنیاد پر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔

 وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ  نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ صوبائی حکومت نے تیراہ کے نام پر اربوں روپے کے منصوبے بنا کر فنڈز حاصل کیے، لیکن یہ رقم عوامی فلاح کے بجائے سٹریٹ موومنٹس اور سیاسی سرگرمیوں پر خرچ کی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ چار ارب روپے کہاں خرچ ہوئے  کے پی حکومت اس کا واضح جواب دے۔

یہ بھی پڑھیں :تیراہ آپریشن اور عوام کی نقل مکانی سے متعلق پی ٹی آئی کا گمراہ کن پروپیگنڈا بے نقاب ، حقائق سامنے آگئے

وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے کہا کہ وادی تیراہ کے اندر کالعدم ٹی ٹی پی کے عناصر کی موجودگی ایک حقیقت ہے  مگر اس کے باوجود صوبائی حکومت نے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت صحافیوں کو وادی تیراہ لے جا کر زمینی حقائق دکھا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی آٹھ فروری کے احتجاج میں لوگوں کو اس کا ایندھن بنائے گی۔

وفاقی وزراء نے پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ صوبائی حکومت کے بعض مفادات کالعدم ٹی ٹی پی سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جس کی وجہ سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔ وفاقی وزرا نے واضح کیا کہ حکومتِ پاکستان اور پاک فوج کا اس مبینہ پروجیکٹ یا نقل مکانی سے کوئی تعلق نہیں، وفاقی وزرا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وادی تیراہ کے عوام کی فلاح و بہبود وفاقی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور عوام کو کسی قسم کے سیاسی کھیل کا ایندھن نہیں بننے دیا جائے گا۔

 وفاقی وزراء نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت تیراہ معاملے کو جان بوجھ کر بحران کی شکل دے کر پاک فوج پر الزام تراشی کر رہی ہے  جرگے کے انعقاد کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ تمام عمل صوبائی حکومت اور جرگے کی مشاورت سے طے پایا۔

 وزراء نے کہا کہ صوبائی حکومت نے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے چار ارب روپے کے فنڈز مختص کر رکھے ہیں  مگر اس کے باوجود صورتحال کو غیر ضروری طور پر بحران بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ نقل مکانی واقعی کسی بڑے آپریشن یا ایمرجنسی کا نتیجہ ہوتی تو اس حوالے سے فیصلے وفاقی سطح پر ہوتے نہ کہ صوبائی نوٹیفکیشن کے ذریعے۔

یہ بھی پڑھیں :وادی تیراہ میں شدید برف باری، پاک فوج کا ریلیف آپریشن بلاتعطل جاری

وفاقی وزیر دفاع نے بتایا کہ جرگے میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ علاقے میں سکول، تھانے اور دیگر بنیادی سہولیات قائم کی جائیں گی مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ آج بھی وادی تیراہ میں ہسپتال، تعلیمی ادارے اور پولیس اسٹیشنز کی شدید کمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں مکمل ناکامی ہوئی ہے۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کے بعض مفادات کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے جڑے ہوئے ہیں، جس کے باعث حقائق کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اس پورے معاملے میں پاک فوج کا کوئی کردار نہیں اور فوج پر الزام لگانا محض اپنی نااہلی چھپانے کی کوشش ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *