وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے 28ویں آئینی ترمیم کے امکان کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ اس ترمیم میں وہ تمام نکات شامل کیے جائیں جن سے عام شہریوں کو براہِ راست سہولت حاصل ہو۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ آئینی اصلاحات کا مقصد نظام کو مزید مؤثر بنانا اور وفاق و صوبوں کے درمیان موجود مسائل کو باہمی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے حل کرنا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے معاملے پر بریفنگ کے لیے خط لکھنے کو بدنیتی قرار دیا اور کہا کہ کیا تحریک انصاف کو نہیں پتہ کہ ملک میں دہشت گردی کے پیچھے کون سے عناصر سرگرم ہیں؟ انہوں نے کہا کہ خط لکھنا اور ان کیمرہ بریفنگ کا مطالبہ کرنا غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دارانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ اگر ان کیمرہ بریفنگ درکار ہے تو ڈیفینس کمیٹی کے اجلاس میں آئیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ان اجلاسوں میں شرکت ہی نہیں کرتے،مشیر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی جیسے حساس معاملے پر سیاست چمکانے کے بجائے قومی یکجہتی اور سنجیدہ طرزِ عمل کی ضرورت ہے۔
رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ 28ویں ترمیم کے حوالے سے وفاق اور صوبوں کے درمیان موجود اختلافی امور کو باہمی مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے گا اور کسی بھی ترمیم کو یکطرفہ طور پر نافذ نہیں کیا جائے گا،ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا فوکس صرف اور صرف عوامی فلاح، بہتر طرزِ حکمرانی اور آئینی استحکام پر ہےاور اسی وژن کے تحت آئندہ آئینی اقدامات کیے جائیں گے۔