بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے ’آئی ایس آر او‘ کو ایک اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں پی ایس ایل وی سی 62 راکٹ کے ذریعے 16 سیٹلائٹس کو خلا میں بھیجنے کا مشن مکمل نہ ہو سکا۔ لانچ کے دوران راکٹ کے تیسرے مرحلے میں اچانک تکنیکی خرابی پیدا ہوئی، جس کے باعث مشن ناکام قرار دے دیا گیا۔
آئی ایس آر او کی جانب سے لانچ کے فوراً بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ’پی ایس ایل وی سی 62 مشن کو پی ایس 3 مرحلے کے اختتام پر تکنیکی مسئلہ درپیش آیا، جس کے باعث مشن کو مکمل نہیں کیا جا سکا‘۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ناکامی کی وجوہات جاننے کے لیے تفصیلی تکنیکی تجزیہ اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی غلطیوں سے بچا جا سکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ راکٹ متعدد جدید سیٹلائٹس کو مدار میں پہنچانے کے لیے روانہ کیا گیا تھا، جن کا مقصد مواصلات، تحقیق اور دیگر سائنسی سرگرمیوں کو فروغ دینا تھا، تاہم تکنیکی خرابی نے ایک بار پھر بھارتی خلائی منصوبہ بندی کو شدید دھچکا پہنچایا۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس 18 مئی کو بھی آئی ایس آر او کو اسی نوعیت کی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب ایک مشن تیسرے مرحلے میں خرابی کے باعث مکمل نہ ہو سکا۔ مبصرین کے مطابق یہ ناکامیاں بھارت کے خلائی پروگرام میں مسلسل سامنے آنے والی تکنیکی کمزوریوں کا تسلسل ہیں، جو ادارے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن چکی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلائی مشنز میں بار بار ناکامی نہ صرف بھارت کی سائنسی صلاحیتوں بلکہ اس کی اسٹریٹجک ٹیکنالوجی پر بھی خطرناک سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ناکام راکٹ میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی بھارت کے اگنی میزائل پروگرام سے بھی منسلک سمجھی جاتی ہے، جس کے باعث علاقائی اور عالمی سطح پر سنگین خدشات جنم لے رہے ہیں۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اسی نوعیت کی ٹیکنالوجی کا حامل کوئی بیلسٹک میزائل تکنیکی خرابی کے باعث اپنے اصل ہدف کے بجائے کسی اور ملک میں جا گرے تو اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں اور جوابی کارروائی پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:سوشل میڈیا پر پاکستانی طیارے کو مار گرائے جانے کی جعلی ویڈیو، آزاد فیکٹ چیک نے بھارت کے ایکس ہینڈلز کی گمراہ کن مہم بے نقاب کر دی
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق بھارت کی کمزور اور غیر مستحکم خلائی و دفاعی ٹیکنالوجی نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے بلکہ عالمی توازن پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ایسے میں آئی ایس آر او کو درپیش مسلسل ناکامیاں عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہیں، جبکہ بھارت کے خلائی دعوؤں کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔