سوتیلی بہن نے دلالی کرکے بھائیوں کے ہاتھوں گل بی بی کو مروادیا

سوتیلی بہن نے دلالی کرکے بھائیوں کے ہاتھوں گل بی بی کو مروادیا

جوھر شاہ

پشاور کے گنجان آباد علاقے رشیدگڑھی کی ایک چھوٹی سی رہائش گاہ میں گل بی بی، ایک خاموش مگر مضبوط لڑکی، اپنی بیوہ ماں زہرا کے ساتھ دکھی سکھی زندگی گزار رہی تھی۔ ماں نے بیٹی کی پرورش اور زمانے کے ظلم و ستم سے بچانے کے لیے سروش خان نامی افغان مہاجر سے شادی کرلی تھی تاکہ اپنی اور بیٹی کی عزت کو محفوظ کیا جا سکے۔

گل بی بی ابھی چھوٹی تھی کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور ماں نے گھر کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ زہرا نے دوسری شادی صرف اس لیے کی کہ بیٹی کی اچھی جگہ شادی کرکے آرام سے اس اہم ذمہ داری سے سبکدوش ہو سکے، مگر بعض اوقات ایسے فیصلے الٹ ثابت ہو کر زندگی کو خطرناک موڑ پر لے جاتے ہیں۔

زہرا نے اپنے خاوند سروش خان کے ساتھ ازدواجی زندگی شروع کی۔ سروش خان ایک افغان مہاجر تھا، جس کے دو گھر تھے، ایک افغانستان میں، جہاں اس کے جوان بیٹے اور بیٹیاں رہتے تھے جبکہ دوسرا خیبرپختونخوا کے علاقے رشیدگڑھی میں تھا۔ سروش کے لئے بھی دوسری شادی مجبوری تھی، کیونکہ اس کا کاروبار اور تجارت دونوں ملکوں میں پھیلی ہوئی تھی۔ گل بی بی پاکستانی تھی، اس کے رہن سہن اور طور طریقے اپنے پختون معاشرے کے مطابق تھے، لیکن اس کی سوتیلی ماں، جوکہ سروش خان کی پہلی بیوی تھی، افغان مزاج رکھتی تھی۔ اس کی خواہش تھی کہ گل بی بی کی شادی اپنی بیٹی کے دیور سے کرائی جائے تاکہ وہ افغانستان میں رہے اور خاوند کے کاروبار اور جائیداد میں اس کا حصہ ختم ہو سکے۔ وہ کسی نہ کسی بہانے گل بی بی کو افغانستان لے جانا چاہتی تھی، مگر گل بی بی ہمیشہ انکار کردیتی، جبکہ زہرا کئی بار اپنے خاوند کے ساتھ افغانستان جا چکی تھی۔

زہرا چاہتی تھی کہ گل بی بی کی شادی اس کی مرضی سے ہو، جبکہ سوتن کی خواہش تھی کہ شادی افغانستان میں ہو تاکہ خاوند کے جائیداد میں بٹوارہ نہ ہوسکے۔ دوسری طرف گل بی بی نفسیاتی طور پر افغان شہریوں سے نفرت کرتی تھی اور اپنی آزادی کی قدر جانتی تھی۔ اس نے صاف انکار کر دیا اور یہی انکار اس کی سوتیلی ماں کی دشمنی کا سبب بن گیا۔ سروش خان کی پہلی بیوی نے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ مل کر ایک سازش تیار کی کہ گل بی بی کو ہر حال میں افغانستان لایا جائے۔

ایک خاندانی تقریب میں انہیں موقع ملا۔ گل بی بی اور اس کی ماں کو اسی بہانے پشاور سے افغانستان لے جایا گیا۔ وہاں وہ افغان نوجوان، جسے گل بی بی نے رشتے سے انکار کیا تھا، غصے میں آکر اسے اغوا کرکے لے گیا۔ سروش خان کو جب خبر ملی تو وہ فوراً افغانستان پہنچا، مگر لڑکی وہاں موجود نہ تھی۔ غصے میں اس نے زہرا پر تشدد کیا کہ گل بی بی نہ چاہتی ہوئی بھی تم اسے افغانستان کیوں لائی۔ بیٹے بھی باپ کے خلاف ہو گئے اور انہوں نے اپنے ہی والد کو مارا۔ یہ خوفناک منظر دیکھ کر زہرا کانپ اٹھی کہ ایسے ظالم اور وحشی ماحول سے وہ کیسے واپس جا سکے گی۔ وہ شدید کشمکش میں مبتلا ہوگئی۔

کچھ دن قید و بند کے بعد سروش خان کی ایک بیٹی کو ترس آیا اور اس نے زہرا اور اپنے والد کو آزاد کردیا، جس کے بعد وہ افغانستان سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن جب بھائیوں کو پتا چلا کہ بہن نے باپ اور سوتیلی ماں کو آزاد کیا ہے، تو انہوں نے اس پر اتنا تشدد کیا کہ وہ ہمیشہ کے لیے معذور ہوگئی۔

ادھر گل بی بی کو ایک ایسے مقام پر منتقل کیا گیا جہاں سے بچ نکلنا تقریباً ناممکن تھا۔ اسے انتقام کے طور پر عصمت فروشی کے اڈے میں دھکیل دیا گیا۔ وہاں کئی سال وہ جسمانی اور نفسیاتی اذیت کا شکار رہی۔ ہر لمحہ خوف، عذاب اور بے بسی نے اس کے دل میں انتقام کی آگ بھڑکائے رکھی۔

پھر ایک دن قسمت نے کروٹ بدلی۔ اسفندیار نامی ایک نوجوان، جوکہ ادویات کا کاروبار کرتا تھا، وہ پشاور سے ادویات خرید کر کابل لے جاتا تھا اور اس کاروبارمیں خوب ماہر تھا۔ وہ جب اس اڈے پر آیا اور گل بی بی کو دیکھ لیا تو اسی لمحے وہ گل بی بی پر دل ہار بیٹھا۔ اس نے اس کے درد اور خوف کو محسوس کیا اور خطرات کے باوجود اسے وہاں سے نکال کر دشوار گزار راستوں سے پاکستان پہنچا دیا۔ اگرچہ وہ پہلے سے شادی شدہ اور ایک بیٹی کا باپ تھا، مگر گل بی بی کے معصوم مگر اذیت زدہ چہرے نے اسے اپنا گرویدہ بنا دیا تھا۔ اسی لیے اسفندیار نے گل بی بی کے لیے ایک الگ گھر لے لیا۔

گل بی بی کے ذہن میں ایک ہی خیال رہتا تھا کہ اب زندگی کا صرف ایک مقصد ہےاوروہ انتقام، جو اس کے سوتیلے بھائیوں نے اس کی زندگی کے ساتھ کھیل کر اس پر واجب کیا تھا۔ اس نے اسفندیار سے صاف کہہ دیا کہ چاہے نکاح کرو یا نہ کرو، مگر میرا ساتھ ضرور دو تاکہ میں اپنی ماں اور اپنی عزت کا بدلہ لے سکوں۔ اسفندیار مجبور ہو کر اس کے ساتھ افغانستان جانے پر راضی ہوگیا اور اسی مقصد کے لیے دونوں افغانستان پہنچ گئے۔ وہاں گل بی بی نے منصوبہ بنایا کہ اپنی سوتیلی بہن کو کسی بہانے پاکستان لیکر وہاں پورے خاندان سے اپنا انتقام آسانی سے لیا جا سکتا ہے۔

لیکن قسمت پھر پلٹ گئی۔ جس لڑکی کو وہ نشانہ بنانا چاہتے تھے، اسی نے اپنے بھائیوں کو خبر دے دی کہ جنہیں تم پاکستان میں تلاش کر رہے تھے، وہ خود افغانستان آگئے ہیں۔ بھائیوں نے اسفندیار اور گل بی بی کو پکڑ لیا، پہلے بے دردی سے مارا، پھر گولی مار کر ہمیشہ کے لیے خاموش کردیا۔

جب یہ خبر سروش خان تک پہنچی تو اس کے دل میں بھی انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔ اسے ڈر تھا کہ یہ درندے ایک نہ ایک دن پاکستان آ کر اسے اور زہرا کو بھی مار ڈالیں گے۔ اس نے منصوبہ بنایا اور افغانستان پہنچ کر ایک رات، جب خاندان سو رہا تھا، گھر پر آگ لگا دی اور پورے خاندان کو جلا کر راکھ کردیا۔ پھر وہ پاکستان لوٹ آیا اور بے فکری سے نئی زندگی شروع کردی۔

گل بی بی… نہ اپنے خاندان کو بچا سکی، نہ اپنی عزت اور آبرو کا بدلہ لینے میں کامیاب ہوئی۔ لیکن اس کی زندگی کی داستان غیرت کی ایک روشن مثال بن کر رہ گئی۔ زندگی داؤ پر لگا دی مگر اپنی غیرت پر سمجھوتہ نہ کیا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *