تیل بحران شدت اختیار کر گیا، قیمتیں 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

تیل بحران شدت اختیار کر گیا، قیمتیں 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار رہنے، آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث عالمی تیل مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برطانوی خام تیل (برینٹ) کی قیمت 8 فیصد اضافے کے بعد 124 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی جو چار سال کی بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی 7 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد یہ 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

 آبنائے ہرمز عالمی تیل سپلائی کی اہم ترین گزرگاہ ہے جہاں کسی بھی قسم کی بندش یا عسکری کشیدگی دنیا بھر میں ایندھن کی فراہمی متاثر کر سکتی ہے۔ اگر ایران امریکا مذاکرات تعطل کا شکار رہے اور بحری ناکہ بندی برقرار رہی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جس سے پٹرول، ڈیزل، بجلی اور صنعتی لاگت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد کو جدید اور خوبصورت شہر بنانے کا انقلابی منصوبہ، کیا کچھ بننے جا رہا ؟

 تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں معیشتوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ توانائی مہنگی ہونے سے عالمی مہنگائی میں اضافہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید دباؤ، صنعتی پیداوار میں سست روی اور عالمی تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

خاص طور پر وہ ممالک جو تیل درآمد کرتے ہیں ان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر، تجارتی خسارے اور عوامی مہنگائی پر شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ۔

editor

Related Articles