وزیراعلی کے پی کے سہیل آفریدی نے رات بھر اڈیالہ جیل کے باہر چند کارکنان کے ہمراہ دیا فجر کے وقت دھر نا ختم کیا اور اب اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے ہیں ۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ میں اپنے لیڈر سے ملاقات کے لئے پٹیشن دائر کروں گا سہیل آفریدی نے پٹیشن دائر کرنے سے قبل لیگل ٹیم سے مشاورت بھی کی
وزیر اعلی سہیل آفریدی عمران خان سے ملاقات کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست کریں گے ،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ایک بار پھر سیاسی منظرنامے پر غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔
اڈیالہ جیل کے باہر رات بھر چند کارکنوں کے ساتھ دھرنا نمابیٹھک لگانے کے بعد وہ فجر کے وقت یہ مشق چھوڑ کر اسلام آباد ہائیکورٹ جا پہنچے جہاں وہ عمران خان سے ملاقات کے لیے درخواست دائر کرنا چاہتے ہیں۔
سیاسی ناقدین کے مطابق وزیر اعلیٰ کا طرزِ عمل ایک منتخب رہنما کے شایانِ شان نہیں کیونکہ صوبے کے انتظامی معاملات چھوڑ کر جیل کے باہر بیٹھنا نہ صرف غیر سنجیدگی کی علامت ہے بلکہ صوبے کے عوام کے ساتھ ناانصافی بھی ہے۔
عوامی حلقوں نے بھی سوال اٹھایا ہے کہ خیبر پختونخوا اس وقت درجنوں انتظامی و سکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہےمگر وزیر اعلیٰ نے پورا دن و رات سیاسی نمائش پر ضائع کر دیا۔
ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے عدالت جانے سے پہلے اپنی لیگل ٹیم کے ساتھ مشاورت کی جس کے بعد وہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے جہاں وہ عمران خان سے ملاقات کے لیے باقاعدہ پٹیشن دائر کریں گے۔
تاہم تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کا اس نوعیت کی سرگرمیوں میں وقت ضائع کرنا ان کی ترجیحات کے بارے میں بڑا سوالیہ نشان ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کی یہ سرگرمیاں محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور ہمدردی لینے کی کوشش دکھائی دیتی ہیں، جبکہ عملی طور پر اس کا صوبے یا عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ان کے مطابق ذمہ دار قیادت کا کام مسائل حل کرنا ہے نہ کہ جیل کے باہر ڈرامائی پرفارمنس کے ذریعے خبروں میں جگہ بنانا۔