وزیراعظم کےمشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی کے ساتھ ایک نیا ادارہ بنایا جا رہا ہے جو انتہائی اہمیت کا حامل ہو گا اور یہ نوٹیفکیشن عجلت میں نہیں ہو گا۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ نے پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’وزیراعظم کی واپسی کے بعد جتنا وقت ضروری ہوگا، اسی حساب سے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’آئین کے بعد قوانین اور قوانین کے بعد رولز فریم کیے جاتے ہیں، اس لیے یہ تمام معاملات احتیاط کے ساتھ طے کیے جائیں گے۔‘
’نوٹیفکیشن کے بعد ادارے کی مدت پانچ برس ہو گی اور یہ آئینی ترمیم کے مطابق ہو گی۔‘ رانا ثنااللّٰہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’سابق وزیراعظم (نواز شریف) نے کبھی چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہیں کی اور ان کی گفتگو کو بے بنیاد طور پر اس معاملے سے جوڑا جا رہا ہے۔‘
اس سے قبل پاکستان کے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیر کو قومی اسمبلی میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی کے نوٹیفیکشن سے متعلق کہا تھا کہ ’قانون پاس ہو چکا ہے، اس کے بعد آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کا ایک نوٹیفیکشن آئے گا۔‘
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ’نوٹیفیکیشن کے حوالے سے ایسا کچھ نہیں کہ معاملہ رک گیا ہو۔‘
انہوں نے کہا ’اب نئی قانون سازی کے بعد کچھ چیزیں ہیں، ان کی اکٹھی تعینانی کا جو ایک اور نوٹیفیکشن ہے، وہ آئے گا۔ ان معاملات کی وجہ سے کوئی قانونی پیچیدگی پیدا نہیں ہوتی۔‘
’وہ (فیلڈ مارشل) اپنے عہدے پر برقرار ہیں، ان کی مدت ملازمت پہلے ہی پروٹیکٹڈ ہے، سارا قانون پاس ہو چکا ہے۔ وزیراعظم صاحب بھی ملک میں نہیں تھے، وہ بھی آ جاتے ہیں۔ وزارت دفاع ہے، میرے پاس اگر انفارمیشن ہوتی تو میں بتا دیتا۔‘
پیر ہی کو کو وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پارلیمنٹ میں مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’چیف آف ڈیفنس فورسز والے معاملے پر وزیر دفاع کا بیان آ چکا ہے۔ اس نوٹیفکشن میں کسی بھی قسم کا کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘