ڈائمنڈ جوبلی فٹبال ٹورنامنٹ ، پاکستان نے 74 سال بعد تاریخ رقم کر دی

ڈائمنڈ جوبلی فٹبال ٹورنامنٹ ، پاکستان نے 74 سال بعد تاریخ رقم کر دی

پاکستان فٹبال ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈائمنڈ جوبلی چار ملکی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا اور یوں قومی فٹبال کی تاریخ میں ایک یادگار باب رقم کر دیا۔

مالدیپ میں کھیلے گئے فائنل میں پاکستان نے افغانستان کو صفر کے مقابلے میں دو گول سے شکست دے کر نہ صرف چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا بلکہ کئی دہائیوں بعد عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار بھی کیا۔ اس تاریخی کامیابی پر ملک بھر میں فٹبال شائقین کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اسے پاکستان فٹبال کے لیے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :مالد یپ کو شکست،پاکستان فٹبال ٹیم نے تاریخ رقم کر دی 

فائنل مقابلے میں پاکستان نے آغاز ہی سے جارحانہ اور منظم کھیل پیش کیا۔ میچ کے 24ویں منٹ میں شائق دوست نے خوبصورت گول اسکور کر کے قومی ٹیم کو برتری دلائی۔ اس گول کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں نے دفاع اور مڈفیلڈ میں شاندار ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا اور افغان ٹیم کو کھل کر کھیلنے کے مواقع فراہم نہیں کیے۔ میچ کے اختتامی لمحات میں ہارون حامد نے ایک اور گول کر کے پاکستان کی کامیابی پر مہر ثبت کر دی جس کے بعد افغانستان کی واپسی کی تمام امیدیں دم توڑ گئیں۔

قومی ٹیم نے پورے ٹورنامنٹ کے دوران ناقابلِ شکست رہتے ہوئے اپنی برتری ثابت کی۔ گروپ مرحلے میں پاکستان نے میزبان مالدیپ اور افغانستان کو شکست دی جبکہ بنگلہ دیش کے خلاف میچ برابر رہا۔ سب سے نمایاں بات یہ رہی کہ پورے ایونٹ میں پاکستان کے خلاف کوئی بھی ٹیم گول اسکور نہ کر سکی جو قومی دفاعی لائن اور گول کیپر کی بہترین کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :برازیل کی قومی فٹبال ٹیم کی تاریخی 10دس جرسی ایک بار پھر عالمی فٹبال حلقوں میں توجہ کا مرکز بن گئی

یہ کامیابی پاکستان فٹبال کے لیے اس لحاظ سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ قومی ٹیم نے طویل عرصے بعد کسی بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹ میں ٹائٹل جیتا ہے۔ ماضی میں پاکستان 1962 کے مردیکا کپ کے فائنل تک پہنچا تھا جبکہ مختلف علاقائی مقابلوں میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں تاہم مالدیپ میں حاصل ہونے والی یہ فتح ایک مکمل بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں قومی ٹیم کی تاریخی کامیابی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

editor

Related Articles