قومی اقتصادی سروے آج ، وفاقی بجٹ 27-2026 جمعے کو پیش ہو گا

قومی اقتصادی سروے آج ، وفاقی بجٹ 27-2026 جمعے کو پیش ہو گا

حکومت مالی سال 27-2026 کا وفاقی بجٹ جمعہ 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کرے گی جبکہ رواں مالی سال کا اقتصادی سروے آج ( جمعرات) کو جاری کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں کل (جمعہ ) کو بجٹ پیش کریں گے، بجٹ کا ہدف معاشی استحکام، پائیدار ترقی اور عوامی سماجی و اقتصادی توقعات کو پورا کرنے کے لئے ایک جامع حکمتِ عملی وضع کرنا ہے۔

نئے بجٹ میں مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافہ، معاشی استحکام اور ترقی کے اقدامات، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور عوام دوست پالیسیوں کے ذریعے ملک کی سماجی و اقتصادی خوشحالی کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کی تیاری میں متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اور مشاورت کو یقینی بنایا گیا ہے جبکہ پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کرنے اور اقتصادی سروے کے اجرا سے متعلق انتظامات بھی مکمل کئے جا رہے ہیں۔

قومی اقتصادی سروے

پاکستان کا اقتصادی سروے برائے مالی سال 2025-26 جو وفاقی بجٹ سے قبل ملکی معیشت کی کارکردگی کا جامع جائزہ پیش کرنے والی اہم دستاویز ہے، آج جمعرات (11 جون) کی دوپہر جاری کیا جائے گا۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اقتصادی سروے 2025-26 کا باضابطہ اجرا کریں گے۔

اقتصادی سروے وفاقی بجٹ سے قبل ایک اہم دستاویز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس میں گزشتہ مالی سال کے دوران ملک کی سماجی و اقتصادی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ شامل ہوتا ہے۔

 ستاویز کے مطابق رواں مالی سال زیادہ تر معاشی اہداف حاصل نہ ہوسکے، جی ڈی پی گروتھ 3.7 فیصد رہی، ہدف 4.2 فیصد تھا، فی کس آمدن کا سالانہ ہدف بھی پورا نہ ہوسکا۔

پاکستانی کرنسی میں فی کس سالانہ آمدن 5 لاکھ 33 ہزار 629 روپے ہوگئی، زراعت اور صنعتی شعبے کی ترقی کا ہدف پورا نہ ہوسکا، زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی جبکہ ہدف 4.5 فیصد تھا۔

صنعتی شعبے کی گروتھ 3.51 فیصد رہی، ہدف 4.3 فیصد تھا، بجلی، گیس، واٹر سپلائی گروتھ منفی 10.63 فیصد رہی، ہدف 3.5 فیصد تھا۔

یہ بھی پڑھیں :قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دیدی

خدمات کے شعبے کی شرح نمو 4.09 فیصد رہی، ہدف 4 فیصد تھا، ریئل اسٹیٹ شعبے میں شرح نمو 3.63 فیصد رہی، ہدف 4.2 فیصد تھا۔ ریئل اسٹیٹ، ہوٹلز، ریسٹورینٹس، ماہی گیری اور مینوفیکچنگ سیکٹرکی گروتھ کے اہداف بھی حاصل نہ ہوسکے۔

تعلیم کے شعبے کی گروتھ 5.23 فیصد رہی، ہدف 4.5 فیصد تھا، صحت، سماجی سرگرمیوں کی شرح نمو 6.86 فیصد رہی، ہدف 4 فیصد تھا۔

انفارمیشن کمیونیکیشن شعبوں کی گروتھ 7.52 فیصد رہی، ہدف 5 فیصد تھا، رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں ترسیلات زر 8.5 فیصد اضافے سے 34 ارب ڈالر ہو گئیں۔

اقتصادی سروے کا مقصد قومی معیشت کی مجموعی تصویر پیش کرتے ہوئے عوامی مباحثے اور پالیسی سازی کے عمل میں معاونت فراہم کرنا ہے تاکہ نئے مالی سال کے لیے موثر منصوبہ بندی کی جا سکے۔

editor

Related Articles