غزہ میں امن و استحکام قائم رکھنے کے لیے عالمی فورس کے قیام سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس آئندہ منگل کو دوحہ میں منعقد ہوگی۔ اس کانفرنس کا مقصد غزہ پٹی میں امن قائم رکھنے اور استحکام کے لیے ایک بین الاقوامی فورس کے قیام کے حوالے سے منصوبہ بندی کرنا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق کانفرنس میں 25 سے زائد ممالک کے نمائندگان شرکت کریں گے جو اس اہم معاملے پر تبادلہ خیال اور فیصلہ سازی میں حصہ لیں گے۔
کانفرنس میں تکنیکی اور انتظامی امور پر تفصیلی بات ہوگی جس میں غزہ فورس کی ساخت، اس کے اہلکاروں کی تعداد، تعیناتی کی حکمت عملی اور مقامی و بین الاقوامی تعاون کی تفصیلات شامل ہوں گی۔ بین الاقوامی فورس کو اگلے ماہ غزہ پٹی میں تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔ ابتدائی طور پر یہ فورس ان علاقوں میں بھیجی جائے گی جو اسرائیل کے کنٹرول میں ہیں تاکہ انسانی بحران اور سیکورٹی کے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔
امریکا نے اس کانفرنس میں بھرپور کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ بین الاقوامی فورس نہ صرف امن قائم کرنے میں مدد دے گی بلکہ مقامی انتظامیہ اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون کو بھی مضبوط کرے گی۔ کانفرنس میں شریک ممالک کے نمائندگان اس بات پر غور کریں گے کہ کس طرح انسانی امداد کی فراہمی، تعلیمی اور صحت کے شعبوں میں معاونت، اور بنیادی انفراسٹرکچر کی تعمیر و بحالی کے کاموں کو مؤثر طریقے سے انجام دیا جا سکتا ہے۔
غزہ فورس کے قیام کا مقصد نہ صرف فوری سیکورٹی فراہم کرنا ہے بلکہ طویل المدتی استحکام کے لیے ایک مضبوط فریم ورک بھی تیار کرنا ہے تاکہ علاقے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔ کانفرنس کے بعد بین الاقوامی فورس کی تفصیلی حکمت عملی اور تعیناتی کا شیڈول بھی جاری کیا جائے گا تاکہ تمام شریک ممالک اس منصوبے پر متفق ہو سکیں اور عملی اقدامات فوری طور پر شروع کیے جا سکیں۔