بینک آف پنجاب (بی او پی) نے سائبر حملے سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حالیہ کریڈٹ کارڈ کی بے ضابطہ ٹرانزیکشنز ایک عارضی تکنیکی خرابی کے باعث ہوئیں، جسے اب مکمل طور پر درست کر لیا گیا ہے۔
بینک حکام کے مطابق یہ مسئلہ معمول کی سسٹم مانیٹرنگ کے دوران سامنے آیا، جس کے فوراً بعد اندرونی تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ کریڈٹ کارڈ سسٹم میں عارضی خرابی کے باعث محدود تعداد میں موجودہ کارڈ ہولڈرز غیر مجاز طور پر اوور لمٹ ٹرانزیکشنز کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
بینک نے واضح طور پر کہا کہ یہ واقعہ کسی سائبر حملے کا نتیجہ نہیں تھا اور بینک کے سسٹمز مکمل طور پر محفوظ رہے۔
میڈیا کے بعض حلقوں میں گردش کرنے والی خبروں پر وضاحت دیتے ہوئے بینک آف پنجاب نے کہا کہ متاثرہ صارفین کا کسی بھی سرکاری اسکیم سے کوئی تعلق نہیں۔ بینک کے مطابق اس مسئلے کا ’آسان زربون کارڈ‘ یا کسی دوسرے عوامی پروگرام سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ صرف بی او پی کے کریڈٹ کارڈ ہولڈرز کے ایک مخصوص حصے تک محدود تھا۔
بینک نے تصدیق کی کہ تکنیکی خرابی کو مکمل طور پر دور کر دیا گیا ہے۔ اس نے یہ بھی واضح کیا کہ جمعہ، 2 جنوری 2026 کو کی گئی سسٹم اپ ڈیٹ کا اس کریڈٹ کارڈ مسئلے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
بیان کے مطابق، معیاری بینکاری طریقۂ کار کے تحت رقوم کی وصولی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ زیادہ تر متاثرہ صارفین بینک سے رابطہ کر چکے ہیں اور اوور لمٹ استعمال کی گئی رقوم کی واپسی کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔
بینک آف پنجاب نے رقم کے حجم سے متعلق گردش کرنے والے دعوؤں کو بھی سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں قیاس آرائی، مبالغہ آرائی اور غلط قرار دیا، اور کہا کہ صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔