اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کسانوں کی مالی مشکلات کو کم کرنے اور زرعی پیداوار کو بڑھانے کے لیے ایک جدید، آسان اور قابل رسائی قرض اسکیم متعارف کرائی ہے جسے ’زرخیز۔ای‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ اسکیم خاص طور پر چھوٹے کسانوں کو بغیر ضمانت کے قرض فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے تاکہ وہ اپنی زرعی سرگرمیاں بہتر بنا سکیں اور ملک کی زرعی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکیں۔
اسکیم کی خصوصیات اور فائدے
زرخیز۔ای اسکیم کے تحت کسان 10 لاکھ روپے تک قرض حاصل کر سکیں گے، جبکہ مزارعین کے لیے یہ حد 5 لاکھ روپے تک محدود رکھی گئی ہے۔ یہ قرض بینکوں اور مائیکرو فنانس اداروں کے ذریعے ایک سال کی مدت کے لیے دیا جائے گا، جس میں اسلامی بینکاری کے اصولوں کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ ہر طبقے کے لیے آسانی پیدا کی جا سکے۔
اس اسکیم کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ قرض کا کم از کم 75 فیصد حصہ براہِ راست زرعی اشیا کی خریداری کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ اس میں بیج، کھاد، زرعی ادویات اور ڈیزل شامل ہیں جو کسان مستند اور رجسٹرڈ تاجروں سے حاصل کر سکیں گے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کسان معیاری اور مستند زرعی سامان استعمال کریں تاکہ پیداوار میں اضافہ ہو اور معیار بہتر ہو۔ باقی 25 فیصد رقم نقدی کے طور پر دی جائے گی تاکہ کسان اپنی دیگر ضروریات بھی پوری کر سکیں۔
قرض کی مقدار اور نقد رقم کی تقسیم
ہر ایکڑ زمین کے حساب سے 1 لاکھ روپے قرض ملے گا، لیکن زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپے کی حد ہوگی۔ ان کو قرض کی 25 فیصد رقم نقدی میں دی جائے گی۔مزارعین میں ان کی حد 5 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے اور انہیں نقدی کی صورت میں 15 فیصد رقم دی جائے گی۔
درخواست کا عمل اور آن لائن سہولت
زرخیز۔ای اسکیم میں درخواست دینے کے لیے کسانوں کو بینکوں کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں۔ وہ آن لائن پورٹل کے ذریعے آسانی سے اپنی درخواست جمع کرا سکیں گے۔ درخواست کے ساتھ 1,200 روپے کی پروسیسنگ فیس بھی ادا کرنی ہوگی۔ اس کے بعد نادرا، پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (پی ایم ڈی) اور زمین کے ریکارڈ کی تصدیق کے بعد درخواست منتخب بینک کو بھیج دی جائے گی۔
اہلیت کے معیار اور علاقائی حدود
اس قرض اسکیم کے لیے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے کسان 12.5 ایکڑ تک زمین، سندھ کے کسان 16 ایکڑ تک اور بلوچستان کے کسان 32 ایکڑ تک زمین رکھنے والے اہل قرار دیے گئے ہیں۔ درخواست دہندہ کا پاکستانی شہری ہونا، عمر 21 سے 60 سال کے درمیان ہونا، نادرا کا درست شناختی کارڈ ہونا اور اپنے نام پر رجسٹرڈ موبائل نمبر کا ہونا ضروری ہے۔
حکومت کا رِسک کورنگ فریم ورک اور سبسڈی
حکومت پاکستان نے اس اسکیم کو اپنے رِسک کورنگ فریم ورک کے تحت تیار کیا ہے تاکہ چھوٹے اور پسماندہ علاقوں کے کسان بھی آسانی سے مالی امداد حاصل کر سکیں۔ نئے صارفین کے لیے 10 فیصد فرسٹ لاس کورنگ کی سہولت دی گئی ہے تاکہ نقصان کی صورت میں ایک حد تک تحفظ حاصل ہو۔ علاوہ ازیں، ہر کسان کو 10,000 روپے کی سبسڈی بھی دی جائے گی تاکہ آپریشنل اخراجات کی تکمیل ہو سکے۔
زرخیز۔ای اسکیم کسانوں کے لیے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ بغیر کسی پیچیدگی کے مالی مدد حاصل کریں اور اپنی زرعی سرگرمیوں کو جدید اور مؤثر طریقے سے جاری رکھیں۔ اس اسکیم سے نہ صرف کسانوں کی معیشت بہتر ہوگی بلکہ ملک کی زرعی پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا، جو پاکستان کی مجموعی معیشت کے لیے خوش آئند ہے۔