سابق صدر جو بائیڈن کا پانچ سالہ صدارت کے دوران کوئی سکینڈل نہیں بنا۔ ان کو امریکہ وائٹ ہاؤس سے رخصت ہونے کے بعد اچھی زندگی گزارنے کے لئے اتنا کچھ دے رہی ہے کہ ان کے دل میں کبھی یہ ملال نہیں آئے گا کہ “اِدھر اُدھرہاتھ نہیں مارا”۔
تفصیلات کے مطابق سابق امریکی صدر جو بائیڈن کو دراصل امریکہ کی تاریخ کی سب سے زیادہ ریٹائرمنٹ پنشن مل رہی ہے۔ 83 سالہ سابق صدر جو بائیڈن نے گزشتہ سال کے ابتدائی تین ہفتے صدر کی حیثیت سے کام کیا اور 20 جنوری کو وائٹ ہاؤس سے رخصت ہو کر عام امریکی شہری بن گئے تھے۔
تب سے ان کو سالانہ تقریباً 4 لاکھ 17 ہزار ڈالر پنشن دی جا رہی ہے، جو ان کی صدر کی حیثیت سے کام کے دوران ملنے والی سالانہ تنخواہ 4 لاکھ ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔ نیشنل ٹیکس پیئر یونین فاؤنڈیشن کے نائب صدر ڈیمین بریڈی کے تجزیے کے مطابق یہ رقم امریکہ کی تاریخ میں کسی بھی سابق صدر کو ملنے والی سب سے بڑی پنشن ہے۔
یہ سابق صدر باراک اوباما کی ریٹائرمنٹ انکم سے تقریباً دوگناہے۔ صدر جو بائیڈن کی یہ صدرِ امریکہ کی تنخواہ سے بھی زیادہ پنشن ان کے طویل سیاسی کیریئر کا ثمرہے۔ وہ چالیس سال سے زیادہ عرصہ تک سینیٹ کے رکن رہے، اس کے بعد نائب صدر اور پھر صدر کے عہدے پر فائز رہے۔
اس طویل سرکاری خدمت کے باعث انہیں مختلف سرکاری پنشن سکیموں سے فائدہ حاصل ہوتا ہے جس کا مجموعہ صدر امریکہ کی تنخواہ سے کچھ زیادہ ہو جاتا ہے۔۔ امریکہ کے صدر کی حیثیت سے جو بائیڈن کو سالانہ تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر ملتے ہیں اور کانگریس کی سول ریٹائرمنٹ سکیم کے تحت انہیں اضافی رقم دی جاتی ہے، جو مجموعی طور پر 4 لاکھ 17 ہزار ڈالر سالانہ تک پہنچتی ہے۔
پنشن کے ساتھ امریکی قانون کے تحت سابق صدور کو ریٹائرمنٹ کے بعد روز مرہ کاموں کے لئے دفاتر، معاون عملہ، سکیورٹی اور دیگر سرکاری سہولیات بھی مفت ملتی ہیں۔ 2026 کے بجٹ میںصدر جو بائیڈن کے لیے 15 لاکھ ڈالر سے زائد مختص کیے گئے ہیں، جن میں ان کے زیراستعمال دفتر کے کرائے کی مد میں سب سے زیادہ رقم شامل ہے۔ ان مراعات پر کانگریس میں ریپبلکنز کی طرف سے تنقید بھی کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: مڈٹرم الیکشن نہ جیتے تو میرا مواخذہ ہوگا: ٹرمپ کا ریپبلکنز کو انتباہ

