بلیک ہول کے طاقتور جیٹس کی رفتار نے سائنس دانوں کو حیران کردی

بلیک ہول کے طاقتور جیٹس کی رفتار نے سائنس دانوں کو حیران کردی

سائنس دانوں نے پہلی بار ایک بلیک ہول سے نکلنے والے انتہائی طاقتور جیٹس کی توانائی اور رفتار کو ریئل ٹائم میں حیران کن حد تک درست انداز میں ناپ لیا ہے، اور نتائج نے خلائی تحقیق کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔

بین الاقوامی ماہرین کے مطابق یہ جیٹس اتنی توانائی خارج کر رہے ہیں جو تقریباً 10 ہزار سورجوں کی مجموعی طاقت کے برابر ہے۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ ان جیٹس کی رفتار تقریباً 54 کروڑ کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی، یعنی روشنی کی رفتار کے تقریباً نصف کے برابر۔

یہ بھی پڑھیں :سوشل میڈیا بلیک میلنگ کا خاتمہ، حکومت کا سخت ایکشن پلان

یہ مشاہدات زمین سے تقریباً 7200 نوری سال دور موجود مشہور ’سائگنس ایکس۔1‘ سسٹم میں کیے گئے۔ یہ وہی تاریخی بلیک ہول ہے جسے نصف صدی قبل دنیا کے پہلے شناخت شدہ بلیک ہول کے طور پر دریافت کیا گیا تھا۔ اس سسٹم میں ایک دیوقامت نیلا ستارہ بھی موجود ہے، جس سے بلیک ہول مسلسل مادہ اپنی جانب کھینچتا رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جب بلیک ہول اپنے گرد موجود گیس اور مادے کو نگلتا ہے تو اس کا ایک حصہ انتہائی گرم اور تیز رفتار جیٹس کی شکل میں خلا میں پھینک دیا جاتا ہے۔ یہ جیٹس اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ اپنے اردگرد موجود خلائی ماحول کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان میں ایک مرتبہ پھر انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کا خدشہ

یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے سائنس دان اسٹیو پرابو اور ان کی ٹیم نے یہ تاریخی نتائج دنیا بھر میں نصب طاقتور دوربینوں کے نیٹ ورک سے حاصل ہونے والی 18 سالہ ہائی ریزولوشن ریڈیو امیجنگ کی مدد سے اخذ کیے۔

تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے پہلی بار نہ صرف ان جیٹس کی اصل طاقت کو براہ راست ناپا بلکہ یہ بھی دیکھا کہ وقت کے ساتھ ان کی رفتار اور سمت میں کس طرح تبدیلی آتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت بلیک ہولز کے رویے کو سمجھنے میں ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق اگرچہ بلیک ہول خود روشنی کو بھی فرار نہیں ہونے دیتے، لیکن ان کے اطراف پیدا ہونے والے یہ جیٹس کائنات کے طاقتور ترین مظاہر میں شمار ہوتے ہیں۔ نئی تحقیق مستقبل میں بلیک ہولز، کہکشاؤں کی تشکیل، اور کائنات کی انتہائی پراسرار طاقتوں کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

editor

Related Articles