امریکی فوج نے وینزویلا پر دباؤ بڑھانے کی اپنی مہم کے تحت پابندیوں کی زد میں آنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں اسی سلسلے میں امریکا نے کیریبین میں پانچواں تیل بردار جہاز قبضے میں لے لیا جسے واشنگٹن کی جانب سے عالمی پابندیوں کی خلاف ورزیوں سے جوڑا جا رہا ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا وینزویلا کی حکومت اور اس کے مبینہ اتحادیوں پر معاشی اور سفارتی دباؤ برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کر چکا ہے جمعے کے روز جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں امریکی فوج کی سدرن کمانڈ نے تصدیق کی کہ اس کی فورسز نے “اولینا نامی آئل ٹینکر کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
بیان میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ اس مخصوص ٹینکر کے خلاف کارروائی کن ٹھوس بنیادوں پر کی گئی یا اس پر عائد کی جانے والی مبینہ خلاف ورزیوں کی مکمل تفصیلات کیا ہیں۔
اس خاموشی کے باعث عالمی سطح پر کئی سوالات جنم لے رہے ہیں خاص طور پر بحری تجارت اور بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے امریکی سرکاری ریکارڈز کے مطابق اولینا آئل ٹینکر اس سے قبل “منیروَا ایم کے نام سے رجسٹرڈ تھا۔
ان ریکارڈز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس جہاز پر روسی تیل کی نقل و حمل میں ملوث ہونے کے باعث پابندیاں عائد کی گئی تھیں امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایسے بحری جہاز عالمی پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے تیل کی تجارت میں کردار ادا کر رہے ہیں جو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
یہ تازہ کارروائی اس واقعے کے محض دو روز بعد سامنے آئی ہے جب امریکی فورسز نے دو دیگر آئل ٹینکروں پر بھی قبضہ کیا تھا ان میں ایک روسی پرچم بردار آئل ٹینکر “میرینیرا” بھی شامل تھا، جو اس سے قبل “بیلا-1” کے نام سے جانا جاتا تھا۔
ان اقدامات کو ماہرین امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی کو مزید سخت کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔واضح رہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ پابندیوں کی زد میں آنے والے آئل ٹینکروں کے خلاف ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی۔