برطانیہ میں ویزا پالیسی میں اہم تبدیلیاں، نئے قوانین پرعملدرآمد بھی شروع

برطانیہ میں ویزا پالیسی میں اہم تبدیلیاں، نئے قوانین پرعملدرآمد بھی شروع

برطانیہ نے امیگریشن رولز میں حالیہ اعلان کردہ تبدیلیوں پر باضابطہ طور پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے نئے امیگریشن قواعد ہوم آفس کی ویب سائٹ پر اپڈیٹ کر دیے گئے ہیں، جو 8 جنوری سے نافذ العمل ہوں گے۔ ان ترامیم کے نتیجے میں مختلف ورک ویزا کیٹیگریز میں درخواست دینے والے افراد کے لیے شرائط میں نمایاں تبدیلیاں متعارف کرا دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کے پوسٹر والے ٹرک پر برطانیہ میں سیاہی پھینک دی گئی

تفصیلات کے مطابق برطانوی حکومت نے اسکیلڈ ورکر ویزا کے قواعد میں رد و بدل کیا ہے، جس کے تحت ملازمت کے خواہشمند غیر ملکی افراد کے لیے تقاضے مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ اسی طرح ہائی پوٹینشل انڈویجول ویزا کے ضوابط میں بھی نئی ترامیم نافذ کی گئی ہیں، جن کا مقصد اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل افراد کو ترجیح دینا بتایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اسکیل اپ ویزا کے قوانین میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں اور اب نئی شرائط کے تحت درخواستیں وصول کی جائیں گی۔ حکومت کی جانب سے ورک ویزا درخواست گزاروں کے لیے انگریزی زبان کے معیار کو مزید سخت کر دیا گیا ہے، جس کا اطلاق 8 جنوری کے بعد جمع کرائی جانے والی نئی درخواستوں پر ہوگا۔

ہوم آفس کے مطابق نئے درخواست گزاروں کے لیے انگریزی زبان کا کم از کم معیار ’بی ٹو لیول‘ مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم واضح کیا گیا ہے کہ یہ شرط صرف نئی درخواستوں پر لاگو ہو گی جبکہ پہلے سے موجود ویزا ہولڈرز کو اس سے استثنیٰ حاصل ہوگا اور ان کے ویزا پرانے قواعد کے تحت ہی برقرار رہیں گے۔

مزید پڑھیں:برطانیہ نے نئی ویزا اور امیگریشن پالیسی متعارف کرا دی

برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا بنیادی مقصد افرادی قوت کے معیار کو بہتر بنانا، مہارت یافتہ ورکرز کو راغب کرنا اور امیگریشن سسٹم کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان ترامیم کے بعد برطانیہ میں کام کے خواہشمند افراد کو درخواست دینے سے قبل نئی شرائط کا بغور جائزہ لینا ہوگا تاکہ کسی ممکنہ مشکل سے بچا جا سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *