پی ٹی آئی کی جانب سےوادی تیراہ سے متعلق یہ جھوٹادعویٰ کیا جا رہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے علاقے تیراہ میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کیا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لیے مقامی آبادی کو زبردستی بے دخل کیا گیا ہے تاہم سرکاری معلومات، زمینی حقائق اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ دعوے درست نہیں۔
اس حوالے سے وادی تیراہ کے رہائشیوں نے بھی لوگوں کے لیے مختص فنڈز کی تقسیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں ابھی تک پیسے نہیں ملے حالانکہ پہلے صوبائی حکومت کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ نقل مکانی کے دوران آ پ کا جتنا خرچہ ہوگا وہ حکومت دے گی تاہم حقائق اس کے برعکس ہیں اور ہمیں ابھی تک ایک روپیہ نہیں ملا۔
🚨متاثرین تیراہ کی 4 ارب روپے کے پیکج پر سنگین سوالات، شفافیت پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا صوبائی حکومت کی طرف سے وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والوں کو تاحال کوئی مالی امداد نہیں ملی۔۔ سیاسی بنیاد پر وزیر اعلٰی اور صوبائی حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی والوں نے پیسے خود ہڑپ کر… pic.twitter.com/Bk4N4Z0C79
ملک بھر میں گزشتہ چند برسوں سے دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ایک مستقل حکمت عملی کے طور پر جاری ہیں ان کارروائیوں میں پولیس، انٹیلی جنس ادارے اور پاک فوج شامل ہوتے ہیں۔
یہ آپریشنز محدود، ہدفی اور معلومات کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں جن کا مقصد دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بنانا ہوتا ہے نہ کہ کسی علاقے میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کرنا۔
ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے ادارے جن میں پولیس، انٹیلی جنس ایجنسیاں اور پاک فوج شامل ہیں کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز آئی او بیز مسلسل کیے جا رہے ہیں صرف گزشتہ سال 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے، یعنی اوسطاً روزانہ 200 سے زیادہ آپریشنز۔
یہ آپریشنز دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خاتمے میں نہایت مؤثر ثابت ہوئے ہیں گزشتہ سال 2597 دہشت گرد ہلاک کیے گئے جو کسی ایک کیلنڈر سال میں اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حکمتِ عملی، ٹیکنالوجی اور طریقۂ کار میں مزید بہتری لیکر اپنی مؤثریت کو مزید بڑھایا ہے۔
انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان میں وہ عوامی اور انسانی نقصان شامل نہیں ہوتا جو بڑے پیمانے کی کارروائیوں میں ہوتا ہے۔ اس طرح دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور ان کے سیاسی سرپرستوں کے بیانیے کو پنپنے کا موقع بھی کم سے کم ملتا ہے۔
اسی طرح وادیٔ تیراہ جو خوارج سے متاثر تھی اور جہاں منشیات پر مبنی دہشت گرد معیشت اور ان کے سیاسی سرپرست موجود تھے، کو بھی آئی او بیز کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ستمبر میں مقامی لوگوں نے ایک جرگے کے ذریعے فوج اور خیبرپختونخوا حکومت سے رابطہ کیا تاکہ خوارج کی موجودگی اور جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے حوالے سے کوئی حل نکالا جا سکے کیونکہ خوارج زبردستی آبادی کے اندر رہ رہے تھے، جس سے ضمنی نقصان کا خدشہ رہتا تھا۔
مزید یہ کہ خوارج مقامی لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے، کواڈ کاپٹرز کا استعمال کرتے اور آبادی کے اندر دھماکہ خیز مواد اور آئی ڈیز ذخیرہ کرتے رہے ہیں۔
اس حوالے سے تین آپشنز زیرِ غور آئے
جرگہ خود خوارج سے بات کرے اور انہیں تیراہ چھوڑنے پر آمادہ کرے
سیکیورٹی فورسز انٹلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رکھیں بلکہ ان میں مزید شدت لائیں
مقامی آبادی رضاکارانہ طور پر عارضی نقل مکانی کرے تاکہ سیکیورٹی فورسز بلا رکاوٹ کارروائی کر سکیں
جرگے نے ابتدا میں خوارج سے بات چیت کا راستہ اختیار کیا، تاہم خوارج نے مکمل طور پر انکار کر دیا اور ثقافتی اقدار اور پختون ولی کے تمام اصولوں کو یکسر نظر انداز کیا۔
اس کے بعد جرگے نے خود رضاکارانہ طور پر سالانہ روایتی نقل مکانی کے ساتھ علاقے سے نکلنے کی پیشکش کی تاکہ اس عرصے کے دوران سیکیورٹی فورسز خوارج کے خلاف بھرپور کارروائی کر سکیں، جب مقامی لوگ عموماً باڑہ وغیرہ منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہ بات واضح رہے کہ کسی بھی مرحلے پر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے یہ نقل مکانی زبردستی نہیں کروائی گئی۔
اس کے بعد جو صورتحال پیدا کی گئی، چاہے وہ دانستہ تھی یا مقامی سیاسی قیادت کی نااہلی کا نتیجہ، اور جو جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا، وہ سب کے سامنے ہے
اب سوال اٹھایا جاتا ہے کہ “آپریشن کیوں نہیں ہو رہا؟” اس حوالے سے مزید تین نکات واضح کرنا ضروری ہیں
تیراہ میں ایک سال یا اس سے زائد عرصے سے چھ فوجی یونٹس موجود ہیں اور آج بھی اتنی ہی یونٹس تعینات ہیں۔ کسی بڑے آپریشن سے قبل تاریخ گواہ ہے کہ اضافی نفری پہلے سے تعینات کی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اضافی فورس کہاں ہے؟ کہیں بھی نہیں، لہٰذا آپریشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
سردیوں اور برف باری کے موسم کو کسی بھی فوجی آپریشن کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا۔ اس لیے جھوٹ بولنے سے پہلے یہ بنیادی حقیقت ذہن میں رکھنی چاہیے۔
اگر کسی آپریشن کے لیے زبردستی نقل مکانی کروائی جا رہی ہوتی تو فوج ہر داخلی و خارجی راستے پر چیک پوسٹس اور اسکریننگ سینٹرز قائم کرتی تاکہ خوارج کو آبادی کے ساتھ نکلنے سے روکا جا سکے۔
ایسا کچھ بھی نہیں ہو رہا جو کنٹرول پوائنٹس اور رجسٹریشن مراکز قائم ہیں، وہ سول انتظامیہ چلا رہی ہے۔ تو پھر کون سا آپریشن ہے جس کا پی ٹی آئی کی جانب سےپروپیگنڈا کیا جا رہا ہے؟
اصل سوال یہ ہے کہ یہ کھلے جھوٹ پی ٹی آئی کی جانب سے کیوں پھیلائے جا رہے ہیں؟ یہ نہ پہلی بار ہے اور نہ آخری، وہ ریاست کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو پیچیدہ بنانے، مسلح افواج کے خلاف ابہام پیدا کرنے، خوارج کو فائدہ پہنچانے اور مقامی آبادی کے لیے مختص بڑے فنڈز کو ہضم کرنے کے لیے ایسا بیانیہ گھڑتے رہے ہیں
اس حوالے سے وادی تیراہ کے رہائشیوں نے نقل مکانی کے تمام حالات کھول کر بتا دئیےہیں ایک رہائشی کا کہنا تھا کہ میدان ورسک کا رہائشی ہوں، ہم 4 گاڑیاں لے کر آئے ہیں، 1 لاکھ خرچہ ہوا ہے لیکن کسی کو بھی پیسے نہیں مل رہے۔
وادی تیراہ کے رہائشیوں نے فنڈز کی شفافیت پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا صوبائی حکومت کی طرف سے وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والوں کو تاحال کوئی مالی امداد نہیں ملی،سیاسی بنیاد پر وزیر اعلٰی اور صوبائی حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی والوں نے پیسے خود ہڑپ کر لیے ہیں ۔